خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 83
خطبات مسرور جلد 13 83 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء تائید کرنے والے ہیں آپ مخالفانہ نقطۂ نگاہ سے کتابیں پڑھیں اور میں مخالف ہوں اس لئے میں موافقانہ نقطہ نگاہ سے پڑھوں گا۔اور سات آٹھ دن کتابوں کے مطالعہ کے لئے مقرر ہو گئے اور دونوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو مخالف تھا ( مولوی محمد احسن صاحب کہتے ہیں کہ میں جو مخالف تھا ) احمدی ہو گیا اور وہ جو قریب تھے بالکل ڈور چلے گئے۔مولوی احسن صاحب کی سمجھ میں بات آگئی اور بشیر صاحب کے دل سے ایمان جاتا رہا۔اس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ علم النفس کے رو سے ڈیلیٹس (debates) کرنا سخت مضر ہے اور بعض اوقات سخت نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔یہ ایسے بار یک مسائل ہیں جن کو سمجھنے کی ہر مدرس اہلیت نہیں رکھتا۔(ماخوذ از الفضل 11 مارچ 1939 صفحہ 8 نمبر 58 جلد 27) پس اچھی بات میں بھی اگر تنقید کی نظر سے، اعتراض کی نظر سے مطلب نکالنے کی کوشش کریں تو وہی ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر بہت سے لوگ اس لئے اعتراض کرتے ہیں کہ وہ پڑھتے ہی اعتراض کرنے کے لئے ہیں اور پھر سیاق و سباق سے بھی نہیں ملاتے کہ ہم نے پڑھا یہ لکھا ہوا ہے اور وہ لکھا ہوا ہے۔تو یہ کچھ نئی چیز نہیں ہے۔اعتراض کرنے والے تو خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی اعتراض نکال لیتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ مومنوں کے لئے تو شفا اور رحمت ہے لیکن اعتراض کرنے والے جو ہیں، ظالم لوگ جو ہیں ان کو یہ خسارے میں ڈالتا ہے، نقصان پہنچاتا ہے۔وہ اس سے دور ہٹتے چلے جاتے ہیں اور مزید اعتراض خدا تعالیٰ کی ذات پر کرنا شروع کر دیتے ہیں، اسلام پر کرنا شروع کر دیتے ہیں، مذہب کی ضرورت پر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پس چاہے خدا تعالیٰ کا کلام ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک فائدہ نہیں دیتا جب تک پاک دل ہو کر پڑھنے کی کوشش نہ کی جائے۔نماز کی اہمیت پھر نماز کی اہمیت کے بارے میں حضرت مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ مقدمے کی پیروی کے لئے گئے اور مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہو گئی۔نماز کا وقت آ گیا۔آپ باوجود لوگوں کے منع کرنے کے نماز کے لئے چلے گئے اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کی پیروی کے لئے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے۔اس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے۔حسب قاعدہ جو حکومت کا قاعدہ ہے، عدالت کا جو قاعدہ ہے چاہئے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ