خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 775
خطبات مسرور جلد 13 775 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء ہمارے مبلغ جو وہاں رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ یونس صاحب اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔پھر بعد میں آپ کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی تھی۔بہت ہی پیارے اور فدائی احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے عشق کا تعلق تھا۔ہمیشہ مسکراتے رہتے۔بہت خوش مزاج ملنسار تھے۔دین سیکھنے اور تبلیغ کرنے کا بے حد شوق تھا۔ان کی نمازوں میں خشوع وخضوع ہوتا تھا۔قرغیزستان جماعت کی ترقی کے بارے میں اکثر سوچتے رہتے اور اس کے لئے بہت دعائیں بھی کرتے تھے۔جماعتی نمائندگان اور مبلغین کا بہت احترام کرتے تھے اور سب سے ان کا انتہائی پیار اور محبت کا سلوک تھا۔بعض مبلغین پہ جب قانونی مجبوریاں ہوئیں اور جانا پڑا تو یہ بڑے دکھی تھے کہ مبلغین کو ملک چھوڑنا پڑا۔پہلے رشیا تھا اب قرغیزستان تو رشیا کی زمین میں اسلام اور احمدیت کی راہ میں اپنا خون پیش کرنے والے یہ پہلے شہید ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کے خون کا ہر قطرہ بے شمار نیک فطرت اور سعید روحوں کو جماعت میں شامل کرنے کا باعث بنے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد کا بھی حافظ و ناصر ہو اور ان کے ایمان اور یقین میں ترقی دیتا چلا جائے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے ابھی نماز کے بعد ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا انشاء اللہ۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 15 جنوری 2016 ء تا 21 جنوری 2016 ءجلد 23 شماره 03 صفحه 05 09)