خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد 13 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء روایت کرتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی اور دعا کرتے ہوئے کہا۔اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمنِی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے نماز پڑھنے والے تو نے جلدی کی۔چاہئے کہ جب تو نماز پڑھے اور بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور ثنا کرے۔پھر مجھ پر درود بھیجے۔پھر جو بھی دعاوہ چاہتا ہے مانگے۔راوی کہتے ہیں پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ايُّهَا الْمُصَلى اُدْعُ تُجب کہ اسے نماز پڑھنے والے دعا کر ، قبول کی جائے گی۔(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی جامع الصلوات عن النبى والده العلم حدیث نمبر 3476) پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے، انہوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم موذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جو وہ کہتا ہے۔پھر مجھ پر درود بھیجو۔جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنار حمتیں نازل فرمائے گا۔پھر فرمایا میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگو یہ جنت کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ملے گا۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔جس کسی نے بھی میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگا اس کے لئے شفاعت حلال ہو جائے گی۔(صحیح مسلم کتاب الصلوة باب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلى على النبي والله حدیث نمبر (849) پس یہ درود جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں اضافہ کرتا ہے وہاں قبولیت دعا کے لئے بھی ضروری ہے اور اپنی بخشش کے لئے بھی ضروری ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تم درود نہ بھیجو اس میں سے کوئی حصہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے او پر نہیں جاتا۔(سنن الترمذى كتاب الصلوة ابواب الوترباب ماجاء في فضل الصلوة على النبي و العلم حدیث نمبر 486) درود پڑھنے کے لئے کس طرح کوشش ہونی چاہیئے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک مرید کو لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کہ کوئی اپنے پیارے کے لئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے نبی کریم سال یا اسلام کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں اور اس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ