خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 25
خطبات مسرور جلد 13 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء بار وقف جدید کا چندہ لیا گیا تو بڑے شوق سے دیتے ہوئے کہنے لگے کہ جب سے میں نے چندہ دینا شروع کیا ہے میرا کاروبار بفضلہ تعالیٰ بڑھتا جا رہا ہے اور میرے کاموں میں غیر معمولی برکت پڑ رہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ احمدیت میں داخل ہونے اور چندہ دینے کی برکت سے ہے۔پھر سیرالیون کینما ریجن کے مبلغ ہیں وہ حاجی شیخو صاحب کے بارے میں کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے میں اپنے بچوں کی طرف سے چندہ وقف جدید خود دیا کرتا تھا مگر اس دفعہ میں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اپنا وعدہ خود لکھوائے اور اس کی ادائیگی بھی خود اپنی جیب سے کرے۔جب سیکرٹری صاحب وقف جدید ، وقف جدید کا وعدہ لینے کی غرض سے گئے تو ڈاکٹر حاجی شیخو صاحب نے بیٹی سے کہا کہ وعدہ لکھواؤ تو بیٹی نے کہا کہ وہ دس ہزار لیون دے گی۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ شاید تین چار ہزار لکھوائے گی۔جب بیٹی نے دس ہزار کہا تو اس کی والدہ نے کہا کہ اتنے پیسے کہاں سے ادا کرو گی۔ڈاکٹر صاحب نے اہلیہ کو منع کیا کہ چپ رہوا اپنی مرضی سے لکھوایا ہے لکھنے دو۔چند دن گزرے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کے کچھ عزیز ان سے ملنے آئے اور جاتے وقت انہوں نے بیٹی کو پندرہ ہزار لیون دیئے۔بیٹی نے اسی وقت ڈاکٹر صاحب کو دس ہزار لیون دیئے اور کہا کہ یہ میرا چندہ ہے جو میں نے وعدہ کیا تھا۔چندوں کی اہمیت سمجھنے والے تو ان دور دراز علاقوں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی اور احمدیوں کے بچوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے بے انتہا اخلاص دیا ہوا ہے اور وہ چندوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔کون ہے جو ان کے دلوں میں تحریک پیدا کرتا ہے؟ یقیناً خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔پھر بھی دنیا کے اندھوں کو نظر نہیں آتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔یہ بھی یا درکھیں کہ نئے آنے والے اخلاص و وفا میں بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔نیکیوں میں آگے بڑھنے کی جو روح ہے اس طرف پرانے احمدیوں کو، پرانے خاندانوں کو بھی توجہ دینی چاہئے اور بڑی فکر سے توجہ دینی چاہئے۔پھر ہمارے کنٹا سا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ وہاں کے احمدی ابراہیم صاحب ہیں۔بھیڑ بکریوں کی خرید وفروخت کا کام کرتے ہیں۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے ان کے کاروبار کی حالت کافی خراب تھی اور کوئی منافع نہیں ہوتا تھا۔قبول احمدیت کے بعد انہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ ادا کرنا شروع کیا۔چندے کی برکت سے ان کے کاروبار کی حالت بہتر ہوگئی۔موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب اس مالی قربانی کا نتیجہ ہے جو انہوں نے جماعت میں داخل ہونے کے بعد کی ہے۔