خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 590
خطبات مسرور جلد 12 590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء کرتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے اور جب اسلامی تعلیم کی مزید تفصیل پیش کی جاتی ہے، مزید جزئیات میں جا کر بیان کیا جاتا ہے تو سننے والوں کی حیرانی اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔کیونکہ عام طور پر غیر مسلم دنیا نے تو مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام کے بارے میں یہی باتیں سنی ہیں کہ اسلام شدت پسندی اور حقوق غصب کرنے کا مذہب ہے اور وہ اپنی دلیل کو مسلمان گروہوں کے عملی نمونے پیش کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں جو بدقسمتی سے بعض مسلمان گروہ اور افراد دکھا رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ جب اسلامی تعلیم کی حقیقت قرآن کریم سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے اور خلفائے راشدین اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے نمونے کے حوالے سے پیش کی جائے تو ان پر حقیقت کھلتی ہے۔اور جب یہ بتایا جائے کہ اس تعلیم کے لاگو کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے اور جماعت احمد یہ اس کا پر چار بھی کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے تو دنیا کی توجہ جماعت کی طرف پیدا ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ مخالف سے مخالف کے سامنے بھی جب احسن رنگ میں، اچھے رنگ میں یہ تعلیم پیش کی جائے اور عملی نمونے سے اس کے اظہار کی کوشش بھی کی جائے تو ایک غیر معمولی اثر لوگوں پر پڑتا ہے۔بہر حال اس وقت میں اس تعلیم کی تفصیل میں جانے کی بجائے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں جماعت احمدیہ آئر لینڈ کی پہلی باقاعدہ مسجد کا افتتاح تھا۔آپ سب نے میرا خطبہ بھی وہاں سے سنا ہوگا اور پھر شام کو مہمانوں کے ساتھ ، غیروں کے ساتھ ریسیپشن کا جو پروگرام تھا وہ بھی لا ئیونشر کیا گیا تھا وہ بھی سنا ہو گا۔اس میں میں نے اس اسلامی تعلیم کے حوالے سے کچھ باتیں کی تھیں اور عموماً غیروں کے سامنے میں اسی حوالے سے بات کیا کرتا ہوں جس کا غیروں پر غیر معمولی اثر بھی ہوتا ہے۔وہاں گالوے آئرلینڈ میں بھی جو ہمارے مہمان آئے ہوئے تھے ان پر بھی اثر ہوا۔اس کے علاوہ پریس انٹرویوز اور سیاستدانوں اور پڑھے لکھے طبقے کے ساتھ بھی اسلام کی تعلیم کے حوالے سے باتیں ہوئیں۔ان پر بھی اثر ہوا جس کا اظہار ہر ایک نے کیا۔آئرش لوگوں کی یہ خوبی ہے کہ مثبت یا منفی اظہار کھل کر کر دیتے ہیں۔یابات اگر پسند نہیں آئی تو پھر خاموش رہتے ہیں ، بلا وجہ کی تعریف نہیں کرتے۔آج میں اس دورہ کے حوالے سے کچھ باتیں، کچھ تاثرات ان لوگوں کے بیان کروں گا جس کو دیکھ کر سن کر ، پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور توفیق ملتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ جماعت کا تعارف اور اسلام کی حقیقی تعلیم پھیلانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔