خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد 12 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء ہوئی جگہ چھت میں سے کھولی تو وہاں سے دوائی حاصل ہوگئی۔بہر حال پولیس کو سب کچھ بتایا گیا کہ یہ کسی مخالف نے شرارت کی ہے لیکن پولیس نے کچھ نہیں سنا اور انہوں نے کہا ہم تو اپنی کارروائی کریں گے۔ہمارے مشنری کو پولیس سٹیشن لے گئے اور حوالات میں بند کر دیا۔اگلے دن کیس عدالت میں پیش ہوا تو حج نے کیس سننے کے بجائے تاریخ دے دی۔خیر انہوں نے مجھے بھی یہاں اطلاع کی تو اُن کو میں نے دعائیہ جواب بھی دیا۔پھر دوبارہ پیشی ہوئی تو کہتے ہیں جب میں جاتا اور کٹہرے میں حج کے سامنے پیش ہوتا تھا تو حج بڑے غور سے مجھے دیکھتا تھا اور اُس کے بعد gentleman sit down کہہ کے وہ مجھے بٹھا دیتا تھا اور وکیلوں کو اگلی تاریخ دے دیتا تھا۔کہتے ہیں عدالت میں حاضر ہونے کی تاریخ سے دو دن قبل صبح کی نماز کے بعد جب بہت فکر پیدا ہوئی تو میں نے دعا کی۔قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگا تو دل میں خیال آیا کہ قرآن سے نیک فال نکالی جائے تو سوچا کہ قرآن کو کھولتے ہیں جس لفظ پر نظر پڑے گی اس میں کوئی پیغام ہو گا۔جب دیکھا تو اس آیت پر نظر پڑی کہ يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء:70)اس سے دل کو تسلی ہوئی کہ پیغام تو اچھا ہے۔خیر کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد میں ڈاکخانہ سے ڈاک لینے گیا تو وہاں میرا خط بھی اُس میں اُن کو آیا ہوا تھا جس میں میں نے یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور حفاظت میں رکھے اور منافقین کو اپنے منصوبوں میں نا کام کرے اور جماعت کو ہر ابتلاء سے بچائے اور مزید ترقیات دے۔کہتے ہیں یہ خط پڑھنے کے بعد اور یہ ( آیت) دیکھنے کے بعد میرے دل میں میسج کی طرح یہ گڑھ گیا کہ اب ضرور اللہ تعالی فضل کرے گا اور چند احباب کو بھی میں نے یہ خوشخبری سنادی کہ اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں جب میں عدالت میں حاضر ہوا تو حسب سابق جج نے مجھے بٹھا دیا اور وکیلوں سے بات کرنے کے بعد مجھے کہا کہ تم آزاد ہو۔جاؤ اور اپنا کام کرو تمہارے خلاف کوئی کیس نہیں۔پس اگر ایمان مضبوط ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین ہوتا ہے۔اور انسان صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر نشان دکھاتا ہے۔یہی باتیں ہیں، یہ جہاں اپنا ایمان مضبوط کرتی ہیں، اپنی عملی حالت کو درست رکھتی ہیں وہاں دوسروں کے لئے بھی مضبوطی ایمان کا باعث بنتی ہیں۔پس یہ چیز ہے جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عملی اصلاح کے لئے دوسری چیز جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ علمی قوت ہے یا علم کا ہونا ہے۔اس بارے میں پہلے ذکر ہو چکا ہے، دوبارہ بتادوں کہ غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ گناہ چھوٹے ہوتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو انسان چھوٹا سمجھ رہا ہوتا ہے وہ گناہ اُس