خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد 12 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو پانے کی سعی کرو۔( کوشش کرو۔جو خدا تعالیٰ کے واسطے دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں انہیں دنیا بھی مل جاتی ہے لیکن یہ شرط ہے کہ ہر قسم کے شرک سے بچو۔) فرمایا: ”میں پھر کہتا ہوں کہ اسلام کی اصل جڑ تو حید ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز انسان کے اندر نہ ہو اور خدا اور اُس کے رسولوں پر طعن کرنے والا نہ ہو خواہ کوئی بلا یا مصیبت اس پر آئے۔کوئی دکھ یا تکلیف یہ اٹھائے مگر اس کے منہ سے شکایت نہ نکلے۔بلا جو انسان پر آتی ہے وہ اس کے نفس کی وجہ سے آتی ہے۔خدا تعالیٰ ظلم نہیں کرتا۔ہاں کبھی کبھی صادقوں پر بھی بلا آتی ہے مگر دوسرے لوگ اسے بلا سمجھتے ہیں درحقیقت وہ بلا نہیں ہوتی۔وہ ایلام برنگ انعام ہوتا ہے۔اس سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق بڑھتا ہے اور ان کا مقام بلند ہوتا ہے۔اس کو دوسرے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے لیکن جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا اور ان کی شامت اعمال ان پر کوئی بلا لاتی ہے تو وہ اور بھی گمراہ ہوتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے : في قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا (البقرة:11 ) پس ہمیشہ ڈرتے رہو اور خدا تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو تا ایسا نہ ہو کہ تم خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے والوں میں ہو جاؤ۔جو شخص خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اس کو ایسی توفیق عطا کی۔وہ اس بات پر قادر ہے کہ ایک قوم کو فنا کر کے دوسری پیدا کرے۔یہ زمانہ لوط اور نوح کے زمانہ سے ملتا ہے۔بجائے اس کے کہ کوئی شدید عذاب آتا اور دنیا کا خاتمہ کر دیتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے اصلاح چاہی ہے اور اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 116 تا 118) ہماری بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس تعلیم کو سمجھیں۔تو حید کی حقیقت کو سمجھیں۔فرمایا کہ : ”ہماری جماعت کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی کریں، کیونکہ ان کو تو تازہ معرفت ملتی ہے اور اگر معرفت کا دعویٰ کر کے کوئی اس پر نہ چلے تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔پس ہماری جماعت کو دوسروں کی شستی غافل نہ کر دئے ( دنیا کے نمونے دیکھ کر ان کے پیچھے نہ چل پڑو۔اور اس کو کاہلی کی جرأت نہ دلا دے۔وہ ان کی محبت سرد دیکھ کر خود بھی دل سخت نہ کر لے۔“ ( دوسرے لوگوں کی دین کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی طرف محبت نہیں ہے تو دیکھا دیکھی اپنے دل بھی کہیں سخت نہ کر لیں۔) فرمایا ”انسان بہت آزو ہیں اور تمنائیں رکھتا ہے۔مگر غیب کی ، قضاء وقدر کی کس کو خبر ہے۔زندگی آرزوؤں کے موافق نہیں چلتی تمناؤں کا سلسلہ اور ہے، قضا و قدر کا سلسلہ اور ہے۔اور وہی سچا سلسلہ