خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 309

خطبات مسرور جلد 12 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء ہے۔“ (جو قضا و قدر کا ہے۔) خدا کے پاس انسان کے سوانح سچے ہیں۔اسے کیا معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے۔اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ (241) ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توحید کا حقیقی ادراک عطا فرمائے اور ہمارا ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا ہو۔نماز جمعہ کے بعد ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔یہ مکرم عبدالکریم عباس صاحب سیر یا کا ہے جو 5 مئی کو بقضائے الہی وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔انہوں نے 2005ء میں بیعت کی سعادت پائی تھی اور بعد میں آکے بہت آگے نکلنے والوں میں شامل ہو گئے۔خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔2009ء میں نظام وصیت میں شامل ہوئے۔چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے۔گزشتہ سال مالی حالات کی خرابی کے باعث ملک میں جو حالات ہیں ان پر بھی اثر پڑا۔اگر بہت دور بھی ہوتے تھے تو کسی رشتے دار کے ہاتھ چندہ ضرور بھجوادیا کرتے تھے۔مرحوم شوگر کے مریض تھے اور صحت کافی خراب تھی۔جسم بھی دبلا پتلا تھا۔گزشتہ دنوں خرابی صحت اور تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوئے۔ان کو مکرم ملہم العدس صاحب نے تبلیغ کی تھی اور اپنے صدق و اخلاص کی وجہ سے جلد ہی انہوں نے بیعت کی توفیق پائی۔لکھتے ہیں کہ آپ نے سچی تلاش حق اور اعلی درجہ کی روحانیت کے باعث زیادہ مطالعہ کے بغیر ہی حق کو قبول کر لیا اور تبلیغ کے ایک ماہ بعد ہی بیعت کر لی۔بیعت کے بعد آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ مسجد قبا میں کبار صحابہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں اور سب نے سفید لباس پہنا ہوا ہے۔نیز بیان کیا کہ نماز کے دوران ان کی حالت بہت روحانی تھی۔مرحوم اس خواب سے بہت خوش تھے۔کہا کرتے تھے کہ یہ خواب اس بات کا ثبوت ہے کہ میرا بیعت کا فیصلہ درست تھا۔لیکن اپنی خاکساری کے باعث ہمیشہ پوچھا کرتے تھے کہ کیا میں واقعی صحابہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہل ہوں۔جہاں بھی ہوتے تبلیغ کرتے۔اس بارے میں کسی خوف یا ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔خصوصاً یہ بات اس لئے بھی قابل ذکر ہے کہ آپ اس علاقے میں رہتے تھے جہاں کے رہائشی اپنے عقائد اور عادات کے خلاف کوئی بات سنے کو تیار نہیں ہوتے۔شدید بیماری کے باوجود جماعت سے رابطہ رکھتے اور مطالعہ کرتے اور دلائل سیکھتے اور نرمی سے آگے بیان فرماتے۔بہت نرم دل اور دھیمے مزاج کے طور پر مشہور تھے۔ہمیشہ یہ ثابت کرتے کہ بیماری کوئی