خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد 12 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء بہر حال عملی طریق بھی جو ہے وہ پریشان کر دیتا ہے اور اگر اُس صحیح طریق کو اپنا یا نہ جائے تو کامیابی نہیں ملتی۔پس جو عملی طریق کسی کام کرنے کے لئے تجویز ہوا ہے، دماغ کو بھی اُس کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کی حالتوں کے لئے بھی اس طرف دیکھنا ہوگا۔ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری نیکی کے ارادے دماغ کے اس حصے پر کیوں اثر نہیں کرتے جس پر اثر ہونے کے نتیجہ میں عملی اصلاح شروع ہو جاتی ہے۔ہمیں ان روکوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس رستے میں حائل ہوتی ہیں۔پھر دیکھنا ہوگا کہ ہمارے عبودیت کے معیار کیا ہیں؟ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہماری عملی کوشش میں نیک نیتی اور اخلاص و وفا کتنا ہے۔پس دو قسم کی روکیں ہیں جو عملی اصلاح کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ایک قوت ارادی میں کمزوری اور دوسری قوت عملی میں کمزوری۔لیکن جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے ان کے درمیان میں ایک اور صورت بھی عملی اصلاح میں کمی کی ہے اور وہ ہے علمی طور پر کمزوری۔یہ دونوں طرف اپنا اثر ڈالتی ہے۔ہم عملی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ارادہ بھی علم کے مطابق چلتا ہے اور عمل بھی علم کے مطابق چلتا ہے۔اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک ہزار کا لشکر اُس کے مکان پر حملہ آور ہونے والا ہے بلکہ صرف اس قدر جانتا ہو کہ کسی نے حملہ کرنا ہے اور ہو سکتا ہے ایک دو آدمی ہوں تو اُس کے لئے وہ تیاری کرتا ہے۔لیکن اگر اُسے یہ علم ہو کہ حملہ آور ایک ہزار ہیں تو پھر اُس کی تیاری اُس سے مختلف ہوتی ہے۔پس علم کی کمی کی وجہ سے نقص پیدا ہو جاتا ہے اور علم کی صحت قوت ارادی کو بڑھا دیتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ انسان کسی چیز کو اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور اُسے ہلکی سمجھتا ہے لیکن وہ بھاری ہوتی ہے، اُٹھا نہیں سکتا۔لیکن جب ایک دفعہ اندازہ ہو جائے کہ یہ بھاری ہے تو پھر زیادہ قوت صرف کرتا ہے، زیادہ طاقت لگاتا ہے، اُٹھانے کا طریق بدل لیتا ہے تو پھر اُس کو اُٹھا بھی لیتا ہے۔پس کوئی زائد طاقت اُس میں دوسری دفعہ نہیں آئی بلکہ صحیح علم ہونے کی وجہ سے اور صحیح طریق پر طاقت کا استعمال اُس نے کیا تو اس میں کامیاب ہو گیا۔پس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت تو موجود ہے۔جب اُس صلاحیت اور طاقت کا استعمال صحیح ہو تو آسانی سے کام ہو جاتا ہے یا بہتر رنگ میں کام ہو جاتا ہے اور یہ علم کی وجہ سے ہوتا ہے۔اگر صلاحیت کا صحیح استعمال نہ ہو تو عام معاملات میں بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔پس یہاں اسی اصول کو عملی صلاحیت کے استعمال