خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد 12 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء اور اس وجہ سے قوت عملی مفلوج ہو گئی ہے اور قوت ارادی کے اثر کو قبول نہیں کر رہی۔یعنی ہماری عمل کی قوت مفلوج ہو گئی ہے اور قوت ارادی کا اثر قبول نہیں کر رہی۔یا ان باتوں کو قبول کرنے کے لئے جن معاونوں کی یا جن مددگاروں کی ضرورت ہے اُن میں کمزوری ہے۔اس صورت میں ہم جب تک قوت متاثرہ یا عملی قوت کا یا اثر لے کر کسی کام کو کرنے والی قوت کا علاج نہ کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔مثلاً ایک طالبعلم ہے، وہ اپنا سبق یاد کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔اُس کا جب تک ذہن درست نہیں کر لیا جاتا اُس وقت تک اُسے خواہ کتنا سبق دیا جائے ، کتنی ہی بار اُ سے یاد کروایا جائے یا یاد کرانے کی کوشش کی جائے ، وہ اُسے یاد نہیں رکھ سکے گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 435 436 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) پس ذہن کو درست کرنے کے لئے وجوہات معلوم کرنی ہوں گی تا کہ صحیح رہنمائی ہو سکے، یا پھر سبق یاد کروانے کا طریق بدلنا ہوگا۔پاکستان میں یہ رواج ہے کہ رہنا لگا کر ہر چیز یاد کر لی، چاہے سمجھ آئے ، نہ آئے اور اس طرح وہاں پڑھنے والے بہت سے طالبعلم تیاری کرتے ہیں، اس میں اُن کو بڑی مہارت ہوتی ہے، ایک ایک لفظ کتاب کا بعضوں کو یاد ہو جاتا ہے۔لیکن جب یہاں مغربی ممالک کی پڑھائی کے نظام میں آتے ہیں تو یہاں کیونکہ طریقہ کار مختلف ہے، ہر چیز کو سمجھ کر پڑھنا پڑتا ہے، اس لئے بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کم نمبر لینے والے یہاں بہتر نمبر لے لیتے ہیں، جلد ہی اپنے آپ کو اس نظام میں ڈھال لیتے ہیں۔اور وہاں زیادہ نمبر لینے والے یہاں آکر کم نمبر لیتے ہیں۔ربوہ میں ہمارے جماعتی سکولوں کو جب بعض مجبوریوں کی وجہ سے حکومت کے بورڈوں سے علیحدہ کر کے آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک کیا گیا، رجسٹر کروایا گیا تو وہاں کیونکہ امتحان کا طریق مختلف تھا، اس لئے بہت سے طلباء نے لکھا کہ ہم جتنے نمبر عام پاکستانی نظام تعلیم جو ہے اُس کے امتحانات میں لیتے تھے ایسا نہیں ہے، اب نہیں لے سک رہے اور ہمیں سمجھ بھی نہیں آتی کہ کیا ہو گیا ہے؟ تو بعض دفعہ صرف ذہن کی بات نہیں ہوتی۔ذہن اگر صحیح بھی ہو تو اچھی طرح یاد نہیں ہوتا۔یہ صرف ذہن کی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ اور بھی وجوہات ہو جاتی ہیں اور اگر ذہن بھی کمزور ہوتو پھر بالکل ہی مشکل پڑ جاتی ہے، یاد کروانے کے طریقے بدلنے پڑتے ہیں۔یہاں ایسے کمزور ذہن بچوں کے لئے بھی خاص سکول ہوتے ہیں، ان کو توجہ دیتے ہیں اور بعض دفعہ وہی کمزور ذہن بچے پڑھائی میں بڑے اچھے بچے نکل آتے ہیں۔