خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد 12 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء امیگریشن کا عمل پاکستانی احمدیوں کے لئے آسان ہو گیا اور آسٹریلیا کی جماعت جو آپ کے آسٹریلیا آنے پر صرف چند سوتھی اب ہزاروں میں ہو چکی ہے اورترقی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق احمد یوں کو آسٹریلیا کے سبھی بڑے شہروں میں بسایا گیا۔چنانچہ اب ہر سٹیٹ کے کیپیٹل میں مضبوط جماعت قائم ہے اور وسیع وعریض خوبصورت مساجد اور مشن ہاؤسز قائم ہیں۔سڈنی میں بھی مسجد بیت الھدی کے علاوہ خلافت سینٹینری ہال اور مشن ہاؤس بھی ہے اور ایک گیسٹ ہاؤس ابھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔اسی طرح برسبین ( Brisbane) میں مسجد بنی۔میلبرن (Melbourne) میں مسجد بنی۔ایڈیلیڈ (Adelaide) میں مسجد محمود ہے۔کینبرا (Canberra) میں مسجد کے لئے قطعہ زمین کے لئے کوشش ہو رہی تھی جلد مل جائے گا۔آسٹریلیا کی جماعت میں، ان کی ترقی میں انہوں نے ماشاء اللہ خوب حصہ لیا ہے۔آسٹریلیا کے نیشنل سیکرٹری تربیت عمران احسن صاحب جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ امیر صاحب 1991ء سے آسٹریلیا میں مشنری انچارج اور امیر جماعت کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔آپ کے دور میں بہت بڑے پراجیکٹس تحمیل کو پہنچے جبکہ جماعت ابھی بھی بہت تھوڑی تعداد میں ہے۔2006ء کے دورے کے بعد انہوں نے وہاں دو تین نئی مساجد اور سینٹینری ہال تعمیر کروایا۔مسجد بیت السلام ملبرن جو ہے اس میں بڑا حصہ ہے وہ ہال ہے جس میں دو ہزار سے زائد نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔اسی طرح باقی مساجد بھی کافی وسیع ہیں۔پھر آپ کے دور میں وفاقی حکومت آسٹریلیا کی دونوں سیاسی جماعتوں سے امیگریشن کے معاملات میں بہت اچھے روابط قائم ہوئے اور اسی طرح اور سہولتیں انہوں نے حکومت سے حاصل کیں۔آسٹریلیا میں ذیلی تنظیموں کی تشکیل مرکزی خطوط پر کی مختلف ممالک کے باشندوں کے مابین بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں آپ کی تربیت کا بہت ہاتھ ہے۔آسٹریلیا میں صرف پاکستانی نہیں ہیں بلکہ وہاں پہ فجن بھی بہت سارے آئے ہوئے ہیں، آسٹریلین بھی ہیں اور افریقن بھی۔انہوں نے ان سب میں بھائی چارے کی بہت فضا قائم کی اور ہر ایک کو ڈیوٹیاں سپر د کر کے ذمہ دار بنایا اور ان سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیا اور یہی ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کی خوبی ہے جس پر باقیوں کو بھی عمل کرنا چاہئے۔ابھی پچھلے دنوں میں ان کا جلسہ ہوا ہے انہوں نے اس کی صدارت کی اور خدا تعالیٰ کی ذات کے شکر کے مضمون پر خطاب کیا۔اس وقت تو بڑے صحت مند تھے۔کسی کو خیال بھی نہیں تھا۔