خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد 12 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء بڑھ کر جو بات خاکسار نے یعنی ڈاکٹر صاحب نے ان سے سیکھی ، وہ خلیفہ وقت کی اطاعت اور مفوضہ فرائض کی ادائیگی میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو کمال تک پہنچا دینا تھا۔وہ خلفاء کے معتمد تھے۔اگر کبھی خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں باز پرس ہوتی تو قول سدید سے کام لیتے۔کبھی اس لئے ہمت نہ چھوڑتے کہ حضور کی طرف سے ناراضگی کیوں ہوئی ہے بلکہ ہمیشہ اصلاح پر مامور رہتے اور آئندہ کے لئے خلفاء سے رہنمائی چاہتے۔دعا کرتے اور دعاؤں کے لئے کہتے۔فیروز عالم صاحب بھی یہ لکھتے ہیں کہ مجھے ان سے گہری وابستگی تھی۔1982ء میں جب میں جامعہ گیا تو اس وقت میں تجربہ سے عاری ایک نو احمدی تھا اور اپنی اہم مصروفیت کے باوجود کہتے ہیں کہ مجھ پر نظر شفقت رکھتے۔عید اور دوسرے مواقع پر گھر بلاتے ، تحفے دیتے۔غریب الوطنی میں جو کمیاں ہوتیں انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے۔اسی طرح عبد الاول صاحب نے بھی انہی خصوصیات کا ذکر کیا ہے اور سب سے بڑی خصوصیت یہی کہ خلافت کے بہت ہی قریبی تھے اور قربان تھے۔خاموش طبع تھے۔دوسروں کی خوبیوں پر نظر رکھنے والے با عمل بزرگ تھے۔بارہا مجھ جیسے بچے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔کہتے ہیں جب میں میٹرک کر کے جامعہ گیا تو اس وقت سولہ سال کا تھا اور وہاں میں نے دیکھا کہ آپ دور بیٹھے بھی اپنے وطن کے حالات کا جائزہ لیتے رہتے اور قیمتی دعاؤں اور مشوروں سے نوازتے رہتے تھے۔گزشتہ سال میں نے ان کو بنگلہ دیش ایک جلسہ پر نمائندے کے طور پر بھجوایا تھا تو کہتے ہیں وہاں بھی بڑے خوش تھے اور بار بار ہماری حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ امیر صاحب بتایا کرتے تھے کہ جب ہم پڑھنے کے لئے ربوہ آئے تو میرے ساتھ اور بھی لڑکے تھے۔ہم حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات کے لئے گئے تو حضور چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ہم پاس ہی زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔حضور ہمیں وقف کی اہمیت اور قربانی کے بارے میں بتا رہے تھے اور حضور نے اپنا ایک ہاتھ میرے اوپر رکھا ہوا تھا کیونکہ میں سب سے زیادہ حضور کے قریب تھا۔اللہ کی حکمت کہ باقی اکثر لڑ کے جو باہر سے آئے ہوئے تھے آب و ہوا اور غذا وغیرہ کی سختی برداشت نہ کر سکے اور واپس گھروں کو چلے گئے۔میں نے اپنی تعلیم اور وقف خدا کے فضل سے پورا کیا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لمس کی برکت تھی۔پھر خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ امیر صاحب مرحوم ایک ذہین انسان تھے۔تعلق بنانے اور نبھانے کا فن خوب جانتے تھے اور اسے جماعت کے مفاد میں استعمال کرتے تھے۔اس کے نتیجہ میں