خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 683 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 683

خطبات مسرور جلد 12 683 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء فرمایا تھا اُجِيْبُ كُلّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ - جس سے وعدہ تھا کہ میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا، سوائے ان کے جو شر کاء کے متعلق ہوں“۔( فرماتے ہیں کہ ) وہ ہنری مارٹن کلا رک والے مقدمہ کے موقع پر مجھے جس کی عمر صرف نو سال کی تھی دعا کے لئے کہتا ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو نو سال کی عمر میں دعا کے لئے کہتے ہیں۔گھر کے نوکروں اور نوکرانیوں کو بھی کہتا ہے کہ دعائیں کرو۔پس جب وہ شخص جس کی سب دعائیں قبول کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا تھا، دوسروں سے دعائیں کرانا ضروری سمجھتا ہے۔۔۔خطبات محمود جلد 14 صفحہ 131 ) تو پھر باقیوں کو کتنا اس طرف توجہ دینی چاہئے۔یہ جو الہام ہے أُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا في شركائك۔اس کا شاید بعضوں کو پتا نہ ہو۔یہ آپ ایک مقدمے کے بارے میں دعا کر رہے تھے جو آپ کے شرکاء یعنی بعض قریبیوں نے آپ کی ، آپ کے خاندان کی جائیداد میں حصہ دار بننے کے لئے کیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم ان کی طرف سے، اپنے خاندان کی طرف سے یہ مقدمہ لڑ رہے تھے۔دوسری طرف ایک گورنمنٹ کے افسر بھی تھے جو اُن کے عزیزوں میں سے بھی تھے۔بہر حال مرزا غلام قادر صاحب کو یہ یقین تھا کہ مقدمہ ہمارے حق میں ہو گا۔جائیداد ہمارے قبضے میں ہے اور پشتوں سے ہمارے قبضے میں ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی تو آپ کو یہ الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ساری دعائیں قبول کروں گا مگر جوشر کاء کے متعلق ہیں یہ نہیں۔اس پر آپ نے اپنے خاندان کو کہا کہ بلا وجہ وکیلوں پہ، مقدموں پہ رقم نہ ضائع کر ومقدمہ ہار جاؤ گے۔لیکن آپ کے بھائی کو بڑا یقین تھا۔بہر حال لوئر کورٹ میں مقدمہ کا فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھائی کے حق میں ہوا۔پھر دوبارہ اپیل ہوئی چیف کورٹ میں اور چیف کورٹ میں یہ مقدمہ ہار گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ یہ مقدمہ جیتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا تھا۔(ماخوذ از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 254-255) یہاں دعاؤں کے حوالے سے آگے ایک اور بات بھی حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائی۔لیکن وہ بات آپ ڈاکٹروں کو سمجھا رہے تھے۔یہاں تو ڈاکٹروں کی ٹیم بیٹھ جاتی ہے اگر کوئی ایسا سنجیدہ معاملہ