خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 682
خطبات مسرور جلد 12 682 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء بمطابق 14 نبوت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بھی میں حضرت مصلح موعودؓ کے بیان کردہ کچھ واقعات بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں اور اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی زندگی کے بھی بعض پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” میں علمی طور پر بتلاتا ہوں کہ میں نے حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کو والد ہونے کی وجہ سے نہیں مانا تھا بلکہ جب میں گیارہ سال کے قریب کا تھا تو میں نے مصمم ارادہ کیا تھا کہ اگر میری تحقیقات میں وہ نعوذ باللہ جھوٹے نکلے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا مگر میں نے ان کی صداقت کو سمجھا اور میرا ایمان بڑھتا گیا۔حتی کہ جب آپ فوت ہوئے تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا۔“ (سوانح فضل عمر جلد اوّل صفحہ 96) پھر آپ نے بتایا کہ ”جب میں نے دستی بیعت کی تو میرے احساس قلبی کے دریا کے اندر دس سال کی عمر میں ایسی حرکت پیدا ہوئی کہ جو بیان نہیں کی جا سکتی۔“ (ماخوذ از یاد ایام، انوار العلوم جلد 8 صفحه 365) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہ کس طرح وہ دعاؤں کی ترغیب دیا کرتے تھے، بچپن میں ہی دعاؤں کی طرف توجہ دلایا کرتے تھے، encourage کیا کرتے تھے۔ایک جگہ آپ بیان کرتے ہیں کہ : ”خدا کا فرستاده مسیح موعود علیہ السلام جسے اللہ تعالیٰ نے