خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 617
خطبات مسرور جلد 12 617 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء ہیں۔تم نے تو مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہوا ہے تو تم نے اپنے نفسوں میں کیا انقلاب پیدا کیا ہے۔پس ہمارے نمونے ہماری تعلیم سے مطابقت رکھنے والے ہونے چاہئیں۔دوسرے مذاہب کو ماننے والے سارے تو اخلاق سے گری ہوئی حرکات نہیں کرتے۔سوچنا چاہئے کہ کیا سارے عیسائی یا سارے ہندو یا تمام دوسرے مذاہب کو ماننے والے یا نہ ماننے والے بھی لڑتے رہتے ہیں؟ نہیں۔ان میں بھی بہت سارے صلح جو ہیں اور انصاف پسند بھی ہیں۔اگر ہم میں سے بھی بعض صلح بجو اور بعض لڑا کے ہیں یا اخلاق سے گری ہوئی حرکات کرنے والے ہیں تو ہم میں اور دوسروں میں امتیاز کیارہ گیا۔امتیاز تو تب ہو گا جب اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے جھگڑے فساد کی عادت ہم میں سے بالکل مٹ جائے گی یا کم از کم اتنی کم ہو جائے کہ کسی کو نظر نہ آئے۔اور ایسے فساد کرنے والے جو تھوڑے سے ہوں بھی تو اُن سے ہم پوری طرح کراہت کرنے والے ہوں۔بدی کو مٹانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے کہ اگر کسی بدی کو دیکھو اور طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے ختم کر دو۔اگر ہاتھ سے ختم نہ کر سکو تو زبان سے روکو۔اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا مناؤ۔“ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب بيان كون النهي عن المنكر من الايمان۔۔۔حدیث نمبر 177) پس احمدی معاشرے میں بھی غلط حرکات اور بداخلاقی کو برا سمجھنے روکنے اور منانے کا احساس ہونا چاہئے یا ترتیب کے لحاظ سے روکنے اور سمجھانے اور اس کو ختم کرنے کا احساس پیدا ہونا چاہئے یا برا منانے کا احساس پیدا ہونا چاہئے اور جب سب کو یہ احساس ہو تو پھر چند ایک بھی اخلاق سے نہیں گرتے۔پھر ہر ایک اپنا معیار اونچا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کسی ظالم کا ہمیں ساتھ نہیں دینا چاہئے۔ہمیں وہ طریق اختیار کرنا چاہئے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔جس پر اس زمانے میں خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زور دیا ہے۔ہمیں عفو نرمی اور درگز ر اور محبت سے کام لینا چاہئے۔اگر کسی کو ظلم کرتا دیکھیں تو سمجھیں کہ اس نے مظلوم پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہم پر حملہ کیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کیا ہے کیونکہ جس کام کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے اس نے اس کی تحقیر کی ہے۔پس ایسے حملہ آوروں کو روکنا ہمارا کام ہے۔ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکیں۔دل میں برا منائیں اور مظلوم کے ظالم سے بچنے کے لئے دعائیں کریں۔پس اگر ہم اخلاق سوز حرکتوں پر برا منائیں ، ہمارا معاشرہ برا منائے تو خود بخود یہ ظلم اور یہ حرکتیں ہم میں سے ختم ہو جائیں گی۔لیکن دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بعض دفعہ خاص طور پر عائلی معاملات میں ظلموں میں ماں باپ بہن بھائی