خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد 12 474 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء پہلی بات تو یہ کہ اپنا ایمان مضبوط رکھیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے بتا دیا تھا کہ یوں ہوگا جیسا کہ ان آیات میں میں نے اس کی تفصیل بتائی کہ یہ ہوگا۔یہ آیات اس بارے میں بڑی واضح ہیں۔اور الہام کا یہ بھی مطلب ہے کہ اس سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔یہ لوگ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے آگیں بھڑ کا ئیں گے۔یقینا بھڑکائیں گے لیکن جو مقصد ان آ گوں سے یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔مقصد تو یہی ہے کہ آگئیں لگا کر احمدیوں کو احمدیت سے برگشتہ کرو۔آگ کے عذاب سے جو یہ لوگ بھڑکاتے ہیں اس سے احمدیوں کو ڈرانے کی کوشش کرو۔لیکن کیا کسی حقیقی مومن کا ان باتوں سے ایمان ضائع ہوا ؟ کبھی نہیں۔ہاں ان آگوں نے غلام بن کر مومنوں کو ترقی کے راستے ضرور دکھائے۔اس کے دروازے ضرور کھولے اور ان کے ایمان کو مضبوط کیا۔اس آگ کی وجہ سے اگر ظاہری نقصان ہوا تو وہ بھی کھاد بن کر جماعت کی ترقی اور تعارف کے ایسے دروازے کھولنے والا بن گیا کہ حیرت ہوتی ہے اور پھر بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ دشمن اپنی کارروائی میں نا کام بھی ہوا جیسا کہ میں نے کہا۔پس ہر صورت میں جب نتائج اللہ تعالیٰ کی تائید کا پتادے رہے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کے مختلف پہلو ہیں۔ظاہری بھی اور باطنی بھی۔لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان آگوں کے بھڑ کانے کے نتیجے میں آگ بھڑ کانے والوں کو تو میں جلنے کا عذاب بھی دوں گا اور جہنم کا عذاب بھی دوں گا لیکن آگ سے نقصان پہنچنے والے مومنین کے لئے تو ٹھنڈی سائے دار جنتیں ہیں۔یہ معصوم بچے جنہوں نے جان دی۔یہ تو ویسے ہی جنتی ہوتے ہیں ان کی اس قربانی نے تو انہیں خدا تعالیٰ کا مزید پیارا بنا دیا۔خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے پیار کی آغوش میں لے لیا۔الہام میں یہ تو کہیں نہیں کہا گیا تھا کہ آگ احمدیوں کے لئے کوئی نشانی کے طور پر ہے اور یا یہ عذاب ہے دوسروں کے لئے اور یہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔کوئی ایسی نشانی نہیں بتائی گئی تھی۔مقصد یہی تھا کہ آگ سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہاں بعض دفعہ ظاہری طور پر بھی پوری ہوتی ہے باطنی طور پر بھی پوری ہوتی ہے۔کہیں آگئیں بجھ بھی جاتی ہیں کہیں نقصان بھی پہنچائے گئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار کے لئے جو عذاب مقدر تھا وہ جنگ کا عذاب تھا۔دوسرے تو کوئی عذاب ان کو نہیں آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہی عذاب ان کے لئے مقدر تھا اور اسی سے وہ تباہ ہوئے اور ان کا زور ٹوٹا۔لیکن کیا ان جنگوں میں مسلمان شہید نہیں ہوئے؟ یقیناً ہوئے۔لیکن جہاں کفار کے مرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ جہنمی ہوئے وہاں مسلمانوں کی موت کو فرمایا کہ انہیں مردہ نہ کہو بلکہ یہ زندہ ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے ہاں زندہ ہیں