خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 12 473 ظالموں کی وجہ سے دنیا میں آنے سے محروم ہوا اور قربانی دے کے گیا۔خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء بہر حال ان ظالموں اور آگئیں لگانے والوں کے بارے میں تو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا اور ساتھ ہی ایمان لانے والوں کو بھی ان قربانیوں کے بدلے میں انعامات کی تسلی کروا کر فرمایا کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَهُمْ جَنَّتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ - یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔دشمنوں نے تو آ گوں کا سلسلہ شروع کیا اور اس کی نگرانی کرتے رہے کہ یہ نہ بجھیں۔جیسا کہ ہماری رپورٹس میں بھی ذکر آتا ہے کہ فائر بریگیڈ والوں کو بھی انہوں نے روک دیا اور پتھر مارنے شروع کر دیئے کہ آگ بجھانے کے لئے آگے نہیں جانا۔اسی طرح ایمبولینس کو بھی مریضوں کو نکالنے سے روک دیا اور سامنے کھڑے ہو گئے اور نا چنتے رہے۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مظلوموں کے لئے میں نے ایسی جنت تیار کی ہوئی ہے جس کے باغ ایسے ہیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔جن کے سائے ٹھنڈے ہیں۔جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔جب چاہا پانی پی کر اپنے گلوں اور جسموں کو تازہ کر لیا۔دشمن نے تو آگ کی تپش دینے کی کوشش کی تھی۔جنت میں تو ٹھنڈے سائے ہیں۔دھوپ کی تپش بھی انہیں نہیں پہنچے گی۔دشمن نے تو معصوم بچوں اور بیمار عورت کے گلے دھوئیں سے چوک (chock) کرنے کی کوشش کی تھی یا خشک کرنے کی کوشش کی تھی اور پانی سے محروم رکھا تھا کہ اس طرح سانس گھٹ کے مر جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ان کے لئے کھلی فضا اور ٹھنڈا پانی مہیا کرے گا جہاں ان کے گلے اور جسم ہر وقت تر و تازہ رہیں گے۔پس یہ واضح فرق ہے آگئیں لگانے والوں کے انجام کا اور مظلوموں اور مومنوں کے انجام کا۔ہم ان ظلموں کے خلاف مدد کے لئے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے تھے آج بھی اس کے آگے جھکتے ہیں۔ان آیات میں اس عورت کے بھی سوال کا جواب آگیا جس نے اس واقعہ کے بعد کچھ دنوں پہلے مجھے جرمنی سے لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تو الہام ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ یا مجھے مت ڈراؤ آگ میری غلام بلکہ میرے غلاموں کی بھی غلام ہے۔(ماخوذ از تذکرہ صفحہ 324 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) اس عورت نے آگے کوئی بات تو نہیں لکھی لیکن مطلب یہی لگ رہا تھا کہ پھر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟