خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 449

خطبات مسرور جلد 12 449 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء ہے اور دشمنوں کو موقع مل جاتا ہے۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ 1935ء میں ان کے دادا مکرم سیٹھ محمد دین صاحب آف امرتسر کے ذریعہ سے ہوا تھا جنہوں نے نعمت اللہ خان صاحب وزیر آباد کے ذریعہ سے بیعت کی تھی۔1947ء میں یہ امر تسر انڈیا سے نوابشاہ پاکستان میں شفٹ ہو گئے۔1975ء میں شہید پیدا ہوئے تھے۔پھر F۔Sc کی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد اپنے والد کے کاروبار میں مصروف ہو گئے۔جماعتی خدمات کافی کرتے تھے۔شہادت کے وقت یہ بطور صدر جماعت حلقہ محمود ہال تھے۔شہر کے سیکرٹری تحریک جدید، سیکرٹری اصلاح وارشاد شہر اور ذیلی تنظیم میں نوابشاہ شہر کے قائد خدام الاحمدیہ تھے۔ناظم اصلاح وارشاد علاقہ اور ضلع تھے۔ناظم تحریک جدید ضلع تھے۔ماضی میں یہ سیکرٹری وقف جدید، سیکرٹری ضیافت بھی رہ چکے ہیں، سیکرٹری دعوت الی اللہ بھی رہ چکے ہیں۔جماعتی خدمات کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔جو بھی کام سپرد کیا جاتا بڑی خوش اسلوبی سے اس کو سرانجام دیتے۔کبھی انکار نہیں کیا۔بہت مہمان نواز تھے۔مرکزی مہمانوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔سادہ طبیعت کے مالک۔خلافت سے انتہائی محبت اور اطاعت کا تعلق تھا۔اطاعت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے۔پنجوقتہ نمازی اور تہجد گزار تھے۔بڑا دھیما مزاج تھا۔ہمیشہ نرم لہجے میں بات کرتے۔ان میں ہمیشہ معاف کرنے کی صفت تھی۔گزشتہ سال قادیان کے جلسہ میں بھی شامل ہوئے تھے۔شہادت کے روز رمضان المبارک کے سلسلے میں ذاتی طور پر مستحقین کے لئے راشن کے پیکٹ خود تیار کر کے دو پہر تک تقریباً سات گھروں میں تقسیم کر کے آئے تھے اور جب واپس پہنچے ہیں تو وہاں ان نامعلوم حملہ آوروں نے ، بدبختوں نے حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور سیٹھ محمد یوسف صاحب شہید جو سابق امیر ضلع نوابشاہ تھے ان کے بھتیجے تھے۔ان کے والد مشتاق احمد صاحب بھی زندہ حیات ہیں۔لواحقین میں ان کی اہلیہ نبیلہ امتیاز صاحبہ ہیں تین بیٹے جاذب عمر دس سال عبد الباسط عمر نو سال محمد عبداللہ عمر سات ماہ۔دوسرا جنازہ مکرم نصیر احمد انجم صاحب واقف زندگی کا ہے جو جامعہ احمد یہ ربوہ میں استاد تھے۔1981ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا۔اس کے بعد زندگی وقف کی اور جامعہ میں پڑھائی کے لئے تشریف لے آئے۔جامعہ میں آپ نے بی اے کیا۔جامعہ سے فارغ ہوئے تو پھر ایم اے عربی کیا۔رشین زبان میں بھی ان کو جماعت کی طرف سے کورس کروایا گیا۔1988ء میں جامعہ سے شاہد کی ڈگری لینے کے بعد میدان عمل میں آئے اور مختلف جماعتوں میں رہے۔1990ء میں موازنہ مذاہب کے تخصص کے لئے ربوہ بلایا گیا اور تخصص کے دوران ہی آپ نے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد پڑھانا شروع کیا اور