خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 448

خطبات مسرور جلد 12 448 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء کام لیا جاتا ہے وہی کام دے سکتا ہے اور جس کو بریکار چھوڑ دیا جاوے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکارہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح تو بہ کو بھی متحرک رکھو تا کہ وہ بیکار نہ ہو جاوے۔اگر تم نے سچی توبہ نہیں کی تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو پتھر پر بویا جاتا ہے اور اگر وہ سچی توبہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔آج کل اس تو بہ میں بڑی بڑی مشکلات ہیں۔کیونکہ دنیا کی لالچیں دنیا کی لذات سامنے ہوتی ہیں۔فرمایا : ” ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، تو بہ، دینی علوم کی واقفیت ، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مد نظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو، بچو۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 303) اللہ کرے کہ ہم اس سچی توبہ کرنے والوں میں شامل ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔رمضان سے وابستہ تمام برکات جو ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان کو حاصل کرنے والا بنائے۔اس وقت میں نماز جمعہ کے بعد تین جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ جو ہے وہ نوابشاہ کے رہنے والے ہمارے مکرم محمد امتیاز احمد صاحب ابن مشتاق احمد صاحب طاہر ہیں جن کو 14 جولائی کو شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی عمر تقریباً 39 سال تھی۔کہتے ہیں کہ شام کو ساڑھے چار بجے کچھ نا معلوم موٹر سائیکل سوار ان کی دوکان پر آئے اور ان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔انا للہ وانا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیلات کے مطابق محمد امتیاز احمد صاحب نوابشاہ شہر کے ٹرنک بازار میں واقع اپنی دوکان کے باہر کھڑے تھے کہ موٹر سائیکل پر دو نا معلوم سوار آئے اور ان پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجے میں انہیں تین گولیاں لگیں۔دو گولیاں ان کے سر پر دائیں طرف لگیں اور بائیں طرف کان کے نیچے سے آر پار ہو گئیں جبکہ تیسری گولی ان کے ہاتھ پر لگی۔بہر حال موقع پر شہادت ہوگئی انا للہ وانا الَيْهِ رَاجِعُونَ نوابشاہ میں مذہبی منافرت کی وجہ سے اب تک یہ نویں شہادت ہے اور گزشتہ ایک دو سال میں یہاں زیادہ شہادتیں ہوئی ہیں۔اس واقعہ سے دو تین دن پہلے شہید مرحوم کو ایک قریبی دکاندار نے بتایا بھی تھا کہ بعض مخالفین آپ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔احتیاط جتنی مرضی کر و باہر تو بہر حال نکلنا ہی ہوتا