خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد 12 80 خطبه جمعه فرموده مورخہ 07 فروری 2014ء آج کل جو اعتراضات ہو رہے ہیں وہ یہی ہو رہے ہیں کہ قرآن کریم کی اگر تعلیم یہی ہے تو مسلمانوں کے عمل اس کے مطابق کیوں نہیں؟ جہاں جاؤ یہی سوال اُٹھتا ہے اور یہی اعتراض ہوتا ہے۔اور آج کل جماعت احمدیہ ہی ہے جس نے اپنی حالتوں کو بدل کر ان اعتراضوں کو دھونا ہے۔اس کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔پھر آپ شکر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ شکر اگر کرنا ہے تو تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرنا ہوگا۔فرمایا کہ: 66 تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔مسلمان پوچھنے پر الحمد للہ کہ دینا ساسپاس اور شکر نہیں ہے۔(یہ کوئی شکر گزاری نہیں کہ کوئی پوچھے مسلمان ہو؟ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں ) ''اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو، کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک ہند وسررشتہ دار نے جس کا نام جگن ناتھ تھا اور جو ایک متعصب ہندو تھا بتلایا کہ امرتسر یا کسی جگہ میں وہ سررشتہ دار تھا جہاں ایک ہندو اہلکار در پردہ نماز پڑھا کرتا تھا ہندو تھا، مسلمان ہو گیا لیکن اپنا آپ ظاہر نہیں کیا۔نمازیں با قاعدہ پڑھتا تھا۔” مگر بظاہر ہندو تھا۔“ جوسر رشتہ دار ہے وہ بتانے لگا، جو سرکاری افسر تھا وہ کہنے لگا کہ ”میں اور دیگر دوسرے سارے ہندو اُسے بہت برا جانتے تھے اور ہم سب اہلکاروں نے مل کر ارادہ کر لیا کہ اس کو ضرور موقوف کرائیں۔(نوکری سے فارغ کروائیں) سب سے زیادہ شرارت میرے دل میں تھی۔میں نے کئی بار شکایت کی (اپنے افسروں کو شکایت کرتا تھا کہ اس نے یہ غلطی کی ہے۔اور یہ خلاف ورزی کی ہے۔مگر اس پر کوئی التفات نہ ہوتی تھی“۔(افسران اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے تھے لیکن ہم نے ارادہ کر لیا ہوا تھا کہ اسے ضرور موقوف کرا دیں گے۔اور اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہونے کے لئے بہت سی نکتہ چینیاں بھی جمع کر لی تھیں اور میں وقتا فوقتا ان نکتہ چینیوں کو صاحب بہادر کے رو برو پیش کر دیا کرتا تھا۔صاحب اگر بہت ہی غصہ ہو کر اس کو بلا بھی لیتا تھا تو جوں ہی وہ سامنے آجاتا تو گویا آگ پر پانی پڑ جاتا“۔(اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ) " معمولی طور پر نہایت نرمی سے اُسے فہمائش کر دیتا۔گویا اس سے کوئی قصور سر زد ہی نہیں ہوا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 78-79) تو یہ ہے کہ تقویٰ ہو، اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوتو پھر کوئی مشکل جو ہے وہ کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی۔کوئی کوشش نقصان نہیں پہنچا سکتی۔