خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 694
خطبات مسرور جلد 12 694 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء کے پاس موجود نہیں تو وہ اس طرح اپنی تکلیف کو دور کر سکتا ہے۔اسی طرح فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ علی الصبح اٹھے اور نماز فجر پڑھے۔اب سردیوں میں صبح کے وقت اٹھنا کتنا دوبھر ہوتا ہے لیکن انسان کے پاس اگر کافی سامان ہو تو یہ تکلیف بھی اسے محسوس نہیں ہوسکتی۔مثلاً اگر اسے تہجد کی نماز پڑھنے کی عادت ہے تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ تہجد کی نماز پڑھتے وقت کمرے کے دروازے اچھی طرح بند کرے تا کمرہ گرم رہے اور باہر کی ٹھنڈی ہوا اندر نہ آ سکے۔اسی طرح جب فجر کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد کو جائے تو کمبل یا ڈلائی اوڑھ سکتا ہے (جن کے پاس کوٹ نہیں ہیں)۔یا گرم کوٹ پہن کر جاسکتا ہے اور اگر کوئی غریب بھی ہو تو وہ بھی پھٹی پرانی (کوئی) صدری یا کوٹ پہن کر جا سکتا ہے۔اور سردی کے اثر سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔اور اگر کوئی شخص بالکل ہی غریب ہو اور اس کے پاس نہ کمبل ہو نہ دولائی نہ صدری نہ کوٹ تو اسے بھی زیادہ تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسے شخص کو سردی کے برداشت کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جس چیز کا انسان عادی ہو جائے وہ اس کو تکلیف نہیں دیتی۔(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 669-670) بہت سارے لوگوں کو ہم نے پاکستان میں بھی سردیوں میں دیکھا ہے۔ہم جب گرم کپڑے پہن رہے ہوتے ہیں تو ایک غریب آدمی بیچارہ معمولی سے گرم کپڑے پہن کے اور بغیر جرابوں کے آرام سے پھر رہا ہوتا ہے اور اسے کوئی سردی کا احساس نہیں ہوتا اس لئے کہ عادت پڑ جاتی ہے۔پھر آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ (مثلاً) عورتیں بعض دفعہ جہاں لکڑی اور کوئلہ جل رہا ہوتا ہے وہاں کام کرتی ہیں تو ہاتھوں سے چوہلے سے کوئلہ یا انگارے نکال لیتی ہیں اور انہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی جبکہ ہم لوگ جو ہیں اس کے انگارے کے قریب بھی نہیں جاسکتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 670) تو کسی چیز کی جب یہ عادت پڑ جائے تو پھر تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔اس لئے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اگر ابتلا ہے بھی تو تکلیف برداشت کر کے بھی اس کو اللہ تعالیٰ کی خاطر برداشت کرنا چاہئے اور اگر اس کو دور کرنے کا حل نکل سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان سے حل نکال کے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اگر نہیں بھی تو پھر انسان اپنے آپ کو عادت ڈالے اور اس کے مطابق کرنے کی کوشش کرے اور جب عادت پڑ جائے تو پھر وہ تکلیف ، تکلیف نہیں رہتی۔دوسرے حصے کا تو آپ نے ذکر نہیں کیا کہ دوسرا ابتلا ( کیا ہے؟ ) لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام