خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد 12 397 خطبه جمعه فرموده مورخہ 27 جون 2014 ء یہی لکھنے والے لکھتے ہیں کہ میں نے ایک خواب میں دیکھا تھا جس میں آپ ٹی وی پر یہ کہہ رہے ہیں، اعلان کر رہے ہیں کہ امیر غا نا تو ایک نور ہے۔پھر ان کے بیٹے مہمان نوازی کے متعلق کہتے ہیں کہ جو بھی ان سے ملنے کے لئے جا تا خود جوس پیش کرتے۔ہمارے بہت سے مسلمان اور غیر مسلم دوستوں نے مجھے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہاب صاحب ہمارے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کرتے۔جب بھی کوئی ان سے مشورہ مانگتا ہمیشہ ان کی مدد کر تے۔گھانا میں کوکونٹ (coconut) خاص طور پر بہت ہوتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر مہمانوں کو پیش کرنے کے لئے فریج میں رکھتے ہیں۔پچھلے دنوں ہمارے مبارک ظفر صاحب گئے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ بیماری کے باوجود ان کی کوشش یہ تھی کہ خود کھول کے سٹرا (Straw) ڈال کے پیش کریں۔ہاتھ پوری طرح اٹھا نہیں سکتے تھے تو پھر دوسروں کی مدد سے انہوں نے سٹرا (Straw ) ڈالنے کی کوشش کی۔آخری بیماری تک یہ وصف جو مہمان نوازی کا تھا اس کو انہوں نے پوری طرح نبھانے کی کوشش کی۔بشارت بشیر صاحب کی اہلیہ صاحب لکھتی ہیں کہ وہاب صاحب نے جب تعلیم مکمل کی خدا کے فضل سے کامیاب مبلغ بنے۔وہاب صاحب کی طبیعت میں شروع سے ہی بہت انکساری تھی۔1954ء میں میری شادی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہاب صاحب ہمارے گھر آتے اور مجھے کہتے کہ مولانا کے بوٹ دے دیں۔یعنی بشارت بشیر صاحب کے بوٹ دے دیں، میں نے پالش کرنے ہیں۔میں بہت گھبرا جاتی کہ مبلغ بننے والے بچے سے میں یہ خدمت لوں؟ لیکن ان کا اصرار ہوتا تھا اس لئے کہ جو احسان انہوں نے ربوہ لا کر مجھ پر کیا اس کو ہر صورت میں اتاریں اور ویسے بھی استاد کی عزت ان کے دل میں تھی۔اسی طرح انہوں نے بشارت بشیر صاحب کی وفات پر ایک بڑا مضمون لکھا اور جب انہوں نے اس کا ذکر کیا تو اس سے بڑے خوش بھی ہوئے۔ان کے بیٹے رحمدلی کا واقعہ لکھتے ہیں کہ بہت سے واقعات ہیں جب انہوں نے لوگوں کی مدد کے لئے اپنے تعلقات استعمال کئے اور ایسے لوگوں کی بھی مدد کرتے جنہیں وہ پہلے نہ جانتے تھے۔ایک مرتبہ ایک بیوہ ان کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ وہ بیوہ ہوگئی ہے اور چاہتی ہے کہ کوئی چھوٹا سا کام شروع کر کے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے جس کے لئے اس کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔والد صاحب اس بیوہ خاتون