خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد 12 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء طاقت پیدا ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے ہم برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔اس کے حصول کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے عمدہ رنگ میں وضاحت فرمائی ہے کہ اگر عملی اصلاح کے لئے یہ باتیں انسان میں پیدا ہو جا ئیں تو تبھی کامیابی مل سکتی ہے اور یہ تین چیزیں ہیں۔نمبر ایک قوت ارادی۔نمبر دو صحیح اور پورا علم۔اور نمبر تین قوت عملی۔لیکن اصل بنیادی قو تیں دو ہیں۔قوتِ ارادی اور قوت عملی۔جو چیز ان دونوں کے درمیان میں رکھی گئی ہے یعنی صحیح اور پورا علم ہونا ، یہ دونوں بنیا دی قوتوں پر اثر ڈالتی ہے۔علم کا صحیح ہونا قوت عملی پر بھی اثر ڈالتا ہے اور قوت ارادی پر بھی اثر ڈالتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 440 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) بہر حال پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قوت ارادی اور قوت عملی ہی دو بنیادی چیزیں ہیں جو عملی اصلاح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس کے لئے ہمیں قوت ارادی کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اور قوت عملی کے نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا ارادہ اگر کسی برائی کو روکنے کا مضبوط ہوتو تبھی وہ برائیاں رک سکتی ہیں اور ارادے کی مضبوطی اُس وقت کام آئے گی جب عمل کرنے کی جو قوت ہے، ہمارے اندر جو طاقت ہے، اُس کی جو کمزوری ہے اُس کو دُور کریں ، اُس کے نقص کو دُور کریں۔اس کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی۔اس پہلو سے جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ہماری قوت ارادی کیسی ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریباً یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو۔وہ اسلامی احکام کی اشاعت کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا قرب حاصل کر سکیں۔حضرت مصلح موعود نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقتور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے تو پھر یقیناً دو باتوں میں سے ایک بات ہے۔یا تو یہ کہ عمل کے لئے حقیقی قوت ارادی جو چاہئے ، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے لیکن عقیدے کی اصلاح کے لئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی۔اس لئے عقیدے کی تو اصلاح ہوگئی لیکن عملی اصلاح کے لئے چونکہ قوت ارادی کی ضرورت تھی ، وہ ہم میں موجود نہیں تھی ، اس لئے ہم اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اور پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہماری عبودیت میں بھی کچھ نقص ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ بندگی جس کا ہم دعوی کرتے ہیں اُس میں بھی کچھ نقص ہے