خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد 12 203 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ خدا اپنی خوبیوں کی وجہ سے محبت کے لائق ہے۔“ ( تو اس کا جواب یہ ہے۔فرمایا ) پس واضح ہو کہ یہ اعتراض در حقیقت انجیل پر وارد ہوتا ہے نہ قرآن پر کیونکہ انجیل میں یہ تعلیم ہرگز موجود نہیں کہ خدا سے محبت ذاتی رکھنی چاہئے اور محبت ذاتی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے مگر قرآن تو اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے۔قرآن نے صاف فرما دیا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِ كَرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْأَشَدَّ ذكرًا۔۔۔۔(البقرة: 201) اور پھر فرمایا وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة: 166) یعنی خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ۔اور مومنوں کی یہی شان ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت رکھتے ہیں یعنی ایسی محبت نہ وہ اپنے باپ سے کریں اور نہ اپنی ماں سے اور نہ اپنے دوسرے پیاروں سے اور نہ اپنی جان سے اور پھر فرمایا: حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات : 8)۔یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو بنا دیا۔اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور پھر فرمایا۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبَى (النحل : 91) یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔فرمایا کہ حق العباد کا پہلو تو ہم ذکر کر چکے ہیں۔۔" اصل میں یہ جس کتاب کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ نور القرآن نمبر 2 ہے۔اس میں آپ نے تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔بہر حال اس میں پہلے حق العباد کا جو آپ نے ذکر فرمایا اس میں آپ نے وضاحت فرمائی ہے کہ وہ یہ ہیں کہ مؤمن کا فر پر بھی شفقت کرے یہ حق العباد ہے اور گہرائی میں جا کر اگر اس کی ہمدردی کی ضرورت ہو تو ضرور کرے۔اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہو۔یعنی چاہے وہ کافر ہی ہے اگر اس کو کسی قسم کی بیماری ہے۔چاہے وہ روحانی بیماری ہے تو اس کے لئے غمگسار ہو۔اور یہ ہیں حقوق العباد۔یہاں اس بات کا بھی جواب آ گیا کہ کافر سے محبت کس طرح ہو ؟ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں Love for all۔یہ کس طرح ہو سکتی ہے؟ تو فرمایا کہ اس کی ہمدردی اس کی اصلاح کرنا، اس کی ضرورت کو پورا کرنا اس سے محبت ہے نہ کہ محبت میں آ کر کافر کی کافرانہ باتوں اور اس کے دین کو اختیار کر لینا۔ایک مؤمن سے جو محبت ہے اگر وہ حقیقی مؤمن ہے تو اس سے محبت یہ ہے کہ اس کی جو اچھی عادات ہیں، اس میں جو نیکیاں ہیں ان کو اختیار کرنا اور اگر اس میں کوئی برائیاں ہیں تو اس کو دین کے حوالے سے ان کو سمجھانا۔لیکن جو عام انسانی ہمدردی ہے وہ ہر ایک کے لئے اس سے محبت ہے۔محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر ایک کی جو ذاتی برائیاں، عادات ہیں ان کو اپنا لیا جائے کہ ہمیں اس سے بڑی محبت ہے۔پھر