خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد 12 وو 204 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء حقوق العباد میں بھی آپ نے فرمایا کہ بھوکوں کو کھانا کھلانا، غلاموں کو آزاد کرنا ، قرضداروں کے قرض ادا کرنا، جو زیر بار ہیں ان کا بار اٹھانا۔پھر یہ کہ عدل کا بھی اس میں حقوق العباد میں ذکر آ گیا، کہ عدل سے بڑھ کر پھر احسان کرو۔اور احسان یہ ہے کہ بلا تخصیص مذہب و ملت ہر ایک سے کرو اور یہی حقوق العباد ہیں اور یہ ان لوگوں کے حق ہیں جو ایک انسان کے لئے اس کی محبت میں ایک مؤمن ادا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے۔اول محبت بہر حال خدا تعالیٰ کی ہے۔پھر فرمایا کہ حق العباد کا ذکر تو ہم نے کر دیا۔اور حق اللہ کے پہلو کی رو سے اس آیت کے (یعنی إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى (النحل: 91)) کے یہ معنی ہیں کہ انصاف کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی اطاعت کر کیونکہ جس نے تجھے پیدا کیا اور تیری پرورش کی اور ہر وقت کر رہا ہے اس کا حق ہے کہ تو بھی اس کی اطاعت کرے اور اگر اس سے زیادہ تجھے بصیرت ہو تو نہ صرف رعایت حق سے بلکہ احسان کی پابندی سے اس کی اطاعت کر کیونکہ وہ محسن ہے اور اس کے احسان اس قدر ہیں کہ شمار میں نہیں آ سکتے اور ظاہر ہے کہ عدل کے درجہ سے بڑھ کر وہ درجہ ہے جس میں اطاعت کے وقت احسان بھی ملحوظ رہے اور چونکہ ہر وقت مطالعہ اور ملاحظہ احسان کا محسن کی شکل اور شمائل کو ہمیشہ نظر کے سامنے لے آتا ہے اس لئے احسان کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ ایسے طور سے عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور۔۔( یعنی محسن کی شکل جب سامنے آتی ہے تو تبھی اس کے احسان بھی یاد آتے ہیں یا جب احسان یاد کرے تو محسن کی شکل سامنے آ جائے تو انسان مزید زیر احسان ہوتا ہے۔توفرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا احسان یہ ہے کہ ایسے طور سے عبادت کرو کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور درحقیقت خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہو۔فرمایا کہ )۔۔۔خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے در حقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔اوّل وہ لوگ جو باعث محبوبیت اور رویت اسباب کے احسان الہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے۔“ (یعنی اللہ تعالیٰ تو پردے میں ہے ظاہر میں نہیں کہ انسانی شکل میں نظر آ جائے اور دنیاوی اسباب جو ہیں وہ نظر آ رہے ہوتے ہیں ان کا علم بھی ہوتا ہے اور انہیں محسوس بھی انسان کرتا ہے۔پھر جب دنیاوی چیز میں سامنے نظر آ رہی ہوں تو یہ احساس نہیں رہتا کہ ان اسباب کو پیدا کرنے والی بھی کوئی ہستی ہے اور وہ خدا ہے۔اس لئے ان دنیاوی چیزوں سے ایک انسان زیادہ محبت کرنے لگ جاتا ہے۔پھر فرمایا کہ تین قسم پر یہ چیزیں ہیں پہلے وہ لوگ ہیں جو ملاحظہ نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ کے احسانات کو اچھی طرح نہیں دیکھتے اور وجہ کیا ہے کہ وہ پر دے میں ہے اور دوسرے اسباب جو ہیں وہ سامنے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ ) اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو