خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد 12 77 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا۔“ (سیرت المہدی مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جلد 1 حصہ اول صفحہ 235-236 روایت نمبر 258) پس یہ درد ہے جس نے آپ کو بے چین کر دیا تھا۔مختلف وقتوں میں آپ نے جماعت کو نصائح فرمائیں کہ احمدی کو کیسا ہونا چاہئے۔دوسری کتابوں کے علاوہ ملفوظات جو آپ کی مجالس کی مختصر ار پورٹس ہوتی تھیں تفصیلی نہیں ، اس کی بھی دس جلدیں ہیں۔اور ان دسوں میں سے کسی جلد کو بھی آپ لے لیں، اس میں آپ نے جماعت سے توقعات اور جماعت کو نصائح عملی حالتوں کی تبدیلی کا یہ مضمون مختلف حوالوں اور مختلف زاویوں سے ہر جگہ، ہر مجلس میں بیان فرمایا ہوا ہے۔ان میں سے چند ایک اس وقت میں پیش کرتا ہوں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ’ جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجو د واحد رکھو ور نہ ہو نکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دعا کرو۔اب ہمیں یہ دیکھنے کی ، جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کتنے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرتے ہیں) اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔“ فرمایا: ”میں دو ۲ ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی تو حید اختیار کر و۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنْتُمْ أَعْدَا فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (آل عمران : 104 ) یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں : وو " یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہو