خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 775 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 775

خطبات مسرور جلد 12 775 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء سکتے۔آپ علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ صرف علمی ترقی سے یا مسائل کو جاننے سے یا مسائل کی بحث میں مخالفین کا منہ بند کر کے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔اتنا کافی نہیں ہے کہ علم حاصل کر لیا۔بیشک علمی ترقی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ، اس کے پیار کو جذب کرنے کے لئے عملی ترقی ضروری ہے۔اپنی حالتوں کو بدلنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اپنی حالتوں پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ان لوگوں میں شامل ہونے کی ضرورت ہے جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا (العنکبوت : 70) یعنی اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کوشش وہ اپنے نفس کی قربانی سے کرتے ہیں۔دعا اور نمازوں سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے کرتے ہیں۔صدقہ و خیرات دے کر کرتے ہیں اور ہر وہ طریقہ آزماتے ہیں جس سے خدا راضی ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کی اس تڑپ کو دیکھ کر فرماتا ہے کہ لنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلنا۔کہ ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے پہلے خود کوشش کرنے کی ضرورت ہے تبھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی دعاؤں کا وارث بننے کے لئے بھی اپنے آپ کو ان دعاؤں کی قبولیت کا حقدار بنانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔پس یہ جلسے ہمیں ان دعاؤں سے حصہ لینے والا ماحول میسر کرتے ہیں۔ان میں ہمیں اپنے جائزے لیتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے پانے کے راستوں کو ہم جلد سے جلد طے کر سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔دوسری بات جو قادیان جلسے میں شامل ہیں ان کے لئے میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے میں شامل ہونے والوں کو موسم کے لحاظ سے بستر بھی اپنے ساتھ لانے کا فرمایا ہوا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 281 اشتہار 7 دسمبر 1892 ء اشتہار نمبر 91) اس لئے ہندوستان میں رہنے والے خاص طور پر جس حد تک اس پر عمل کر سکتے ہیں ان کو کرنا چاہئے بلکہ پاکستانیوں کو بھی۔گو کہ اب کچھ حد تک جلسے کے انتظامات کے تحت بستروں کا انتظام تو ہے لیکن مکمل نہیں ہوسکتا۔اس لئے ہندوستان سے آنے والوں کو زیادہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ ان کے لئے مکمل انتظام ہو گا۔باہر سے آنے والے بھی گرم کپڑے جس حد تک لے جا سکتے ہیں انہیں ہمیشہ لے جانے