خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 776
خطبات مسرور جلد 12 776 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء چاہئیں اور اب بھی لے کے گئے ہوں گے کیونکہ موسم ٹھنڈا ہے اور موسم کو دیکھتے ہوئے لے گئے ہوں گے۔ان کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بجائے اس کے کہ اس بات کی تلاش کریں کہ ہمیں گرم بستر میسر ہوں اور گرم کمرے اور گرم جگہیں میسر ہوں ان کو رات کو بھی گرم کپڑے پہن کر سونا چاہئے تا کہ پھر شکوہ نہ ہو کہ ہمیں بستر گرم نہیں ملا۔رضائی موٹی نہیں ملی۔کمرہ بہت ٹھنڈا تھا۔اب تو اتنی سردی نہیں پڑتی پہلے تو اس سے زیادہ سردی پڑا کرتی تھی۔دنیا میں جو موسم change ہوا ہے تو وہاں بھی موسم بدل گیا ہے۔بیشک دھند بہت ہے لیکن سردیوں کا جوٹمپریچر ہے اس میں بہت فرق پڑ گیا ہے۔اس وقت بھی مہمان آتے تھے اور قربانی کر کے رہتے تھے۔اصل مقصد تو روحانی ماحول سے فیضیاب ہونا ہے۔اپنی عملی حالتوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش کرنی ہے۔یورپ سے جانے والے بعض بھی شاید سردی محسوس کریں۔کیونکہ یہاں تو گھروں میں ہیٹنگ کا انتظام ہوتا ہے، وہاں نہیں ہوگا یا بعض امیر لوگ جو پاکستان سے گئے ہوئے ہیں ہیٹر اور گرم کپڑوں کے مطالبے کریں، کمروں کے مطالبے کریں تو ان سب کو یا درکھنا چاہئے کہ جلسے کا انتظام جو کچھ بھی مہیا کرتا ہے اس پر صبر اور شکر کریں اور جو کچھیل جائے اس پر الحمدللہ کریں۔جماعتوں کو بھی اپنے اپنے ملکوں سے شامل ہونے والوں کو تمام صورتحال بتا کر تیاری کروا کر بھیجنا چاہئے تا کہ تمام صورتحال پہلے ہی علم میں ہو اور شکوے نہ ہوں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جماعتیں بھی باہر سے بڑا لمبا عرصہ لگا دیتی ہیں اور نمائندوں کی فہرستیں بھی نہیں بھجوا تیں۔اس میں کافی سستی ہے۔آئندہ ہمیشہ یا درکھیں اگر وہاں جلسے پر بھیجنا ہو تو مرکز کوائف کا جو کچھ مطالبہ کرتا ہے وہ امراء جماعت کا کام ہے کہ مرکز کو مہیا کروائیں۔نہیں تو وہاں جا کر پھر ان لوگوں کو دقت پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح بعض لوگ مطالبات شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں فلاں جگہ ٹھہرایا جائے یا فلاں جگہ ٹھہرایا جائے۔گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا جائے ، دار الضیافت میں لنگر خانے میں یا فلاں جگہ، یہ مطالبے غلط ہیں۔اب اس وقت تو جلسے میں شامل ہونے والوں کی حاضری زیادہ نہیں ہوتی۔پندرہ سولہ ہزار یا ہیں ہزار تک ہے ان کے مطابق رہائش کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس حد تک سہولت سے انتظام کیا جا سکتا ہے ہوتا ہے اور اچھا انتظام ہوتا ہے۔لیکن اگر پھر بھی بعض لوگوں کو اپنی بیماریوں اور بعض اور وجوہات کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے اور عمر کا تقاضا بھی ہے تو پھر بہتر ہے کہ جلسے پہ نہ جائیں۔جلسے پر آنا اور اس کے ماحول سے فیضیاب ہونا بہر حال تھوڑی سی تکلیف میں سے گزر کر ہی ہوگا۔قربانی تو دینی پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود اس کے کہ اپنے مہمانوں کے وہ اعلیٰ معیار قائم کئے جن کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے پھر بھی جلسے کے