خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 773 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 773

خطبات مسرور جلد 12 773 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے اور جن کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ہمارے سامنے پیش فرمائے۔اگر نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے حصہ لینے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے ہماری کوشش تو پھر نہ ہونے کے برابر ہے اور توقع ہم بڑی رکھ رہے ہیں۔پس دنیا میں جماعتہائے احمدیہ کے جو مختلف جلسے ہیں ان جلسوں میں شامل ہونے والے عموماً اور قادیان کے جلسے میں شامل ہونے والے خاص طور پر کہ میچ پاک کی بستی میں جلسے میں شامل ہو رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس درد کو خاص طور پر محسوس کریں جس کا اظہار آپ نے جلسے میں شامل ہونے والوں سے فرمایا ہے۔اگر حقیقت میں ہم نے ان دعاؤں کا وارث بننا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعد دجگہ ہمیں مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ ہم عام دنیا وی رشتوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ ماں باپ کی قربت اور ان کی دعاؤں سے وہی بچے زیادہ حصہ لیتے ہیں جوان کی ہر بات ماننے والے ہیں، خدمت کرنے والے ہیں ، اطاعت اور فرمانبرداری میں بڑھے ہوئے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو ہمارا رشتہ قائم ہے اس رشتے سے تعلق کے بہترین پھل بھی ہم اسی وقت کھائیں گے جب اپنے تعلق میں بڑھنے والے ہوں گے۔جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے دعاؤں کا خزانہ تو ایسا خزانہ ہے جو تا قیامت چلتا چلا جانے والا ہے۔پس خوش قسمت ہوں گے ہم میں سے وہ جو اس سے فیضیاب ہونے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض ارشادات پیش کروں گا جن میں آپ نے اپنی جماعت کے افراد سے جو توقعات رکھی ہیں ان کا کچھ اظہار ہوتا ہے۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شئے پر مقدم رکھے۔بہت سی ریا کاریوں اور بیہودہ باتوں سے انسان تباہ ہو جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحه 177) پھر آپ نے فرمایا کہ: ”چاہیے کہ تم ہر قسم کے جذبات سے بچو۔ہر ایک اجنبی جو تم کو ملتا ہے وہ تمہارے منہ کو تاڑتا ہے اور تمہارے اخلاق، عادات، استقامت، پابندی احکام الہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے ہیں؟ اگر عمدہ نہیں تو وہ تمہارے ذریعہ ٹھوکر کھاتا ہے۔پس ان تمام باتوں کو یا درکھو۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 265)