خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 762
خطبات مسرور جلد 12 762 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔اور کسی پر تکبر نہ کر وگو اپنا ماتحت ہو۔اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11) پھر فرمایا : ” خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔فرمایا ”آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 30) پس جب ہمدردی کے ایسے معیار ہم حاصل کرنے والے ہوں یا ہمدردی کے ایسے معیاروں کو حاصل کرنے کی تعلیم ہمیں ملی ہو اور اس پر ہم عمل کرنے والے بھی ہوں تب ہی انسان دوسرے کے درد کو محسوس کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے اکثریت بنی نوع انسان کے لئے ایسے جذبات رکھتے ہیں اور ایک احمدی کو ایسے جذبات رکھنے والا ہونا چاہئے۔جب عام انسانوں کے لئے یہ جذبات ہوں تو پھر مسلمانوں کے لئے تو پھر ہم اس سے بڑھ کر جذبات رکھنے والے ہیں۔ہر ظلم جو کسی بھی مسلمان پر ہو ہم اپنے دل پر محسوس کرتے ہیں۔اور یہ ظلم جو پاکستان میں ہوا ہے یقیناً ہمارے لئے انتہائی تکلیف کا موجب ہے۔اور جو ظلم مسلمان دنیا میں کسی کی طرف سے بھی ہو رہا ہے ہمارے لئے تکلیف کا باعث ہے۔اور اس تکلیف کا احساس اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب ہم دنیا کو پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان ظلموں کے خاتمے کے لئے اپنے وعدے کے مطابق مسیح موعود کو بھیج دیا ہے جس نے جنگوں اور سختیوں کا خاتمہ کر کے پیار اور محبت کو پھیلانا تھا۔پس اس کی بات سنوتا کہ دنیا میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو لاگو کرسکو لیکن اس پکار کے باوجود علماء کہلانے والے سب سے زیادہ ہماری دشمنی میں بڑھتے چلے جارہے ہیں اور جب ایسی صورتحال ہو تو پھر انصاف اور ہمدردی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور نتیجہ پھر ہر معاشرے میں فتنہ وفساد ہی نظر آتا ہے اور معصوموں کا خون ہوتا ہے اور یہی کچھ ہو رہا ہے۔کاش کہ مسلمان علماء کہلانے والے اس بات کو سمجھیں اور مسلم اُمہ کو فرقہ واریت میں ڈال کر تباہ کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسلام کی امن، محبت اور پیار کی تعلیم کو مسلمانوں کے اندر راسخ کریں۔جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے