خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 761 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 761

خطبات مسرور جلد 12 761 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء کہلانے والوں کو بھی اور عوام الناس کو بھی سمجھ آ جائیں۔مسلمان اُمہ کی تکلیف ہمیں بھی تکلیف میں ڈالتی ہے۔اس لئے کہ یہ ہمارے پیارے آقا کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔ہمیں تو زمانے کے امام نے اپنے آقا اور مطاع کی طرف منسوب ہونے والوں سے ہمدردی اور پیار کرنے کے گر سکھائے ہیں۔ہمیں تو یہ بتایا ہے کہ:۔66 ”اے دل تو نیز خاطر اینان نگاه دار کا خر کنند دعوئے حُبّ پیمبرم “ (ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 182 ) کہ اے دل! تو ان لوگوں کا لحاظ کر۔ان پر ہمدردی کی نظر رکھ کیونکہ آخر یہ لوگ میرے پیغمبر کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔ہمارے ساتھ اگر ظلم کا رویہ ہے تب بھی ہمیں افسوس ہے اور ہم دعا کرتے ہیں بدلے نہیں لیتے کہ خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو صاف کرے اور یہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ مسلم امہ کے لئے حقیقی ہمدردی اور خیر خواہی احمدی ہی اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور ہمدردی اور خیر خواہی کا جذ بہ جیسا کہ میں نے کہا ہمارے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی پیدا کیا ہے۔آپ نے اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی ہمدردی کے جذبے کو اپنوں اور غیروں سب پر حاوی کرنے کی ہمیں تلقین فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا کہ:۔” مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔“ پس اس کو ہمیشہ سامنے رکھو۔پھر فرماتے ہیں: لملفوظات جلد 10 صفحہ 232) ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہئے کہ وہ کہاں تک ان امور کی پروا کرتا ہے اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمدردی اور سلوک کرتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 280) پھر فرمایا: ” تمام انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض مشترک یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی اور حقیقی محبت قائم کی جاوے اور بنی نوع انسان اور اخوان کے حقوق اور محبت میں ایک خاص رنگ پیدا کیا جاوے۔جب تک یہ باتیں نہ ہوں تمام امور صرف رسمی ہوں گے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 95) پھر فرمایا کہ : اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے