خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 760 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 760

خطبات مسرور جلد 12 760 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء دوسرے کی گردنیں کاٹتے چلے جا رہے ہیں۔اگر آخرت پر کامل یقین نہیں تو خدا تعالیٰ نے اس دنیا کے حالت کے بارے میں بھی ان کو بتا دیا کہ پھر تمہارا کیا حشر ہوگا اگر تم نے بھائی بھائی کے تقدس کو پامال کیا تو پھر یہاں بھی تمہاری ساکھ ختم ہو جائے گی۔اس دنیا میں بھی جو مفادات ہیں وہ تم حاصل نہیں کر سکو گے۔جس دنیا کی خاطر تم یہ سب کچھ کر رہے ہو وہ بھی تمہیں نہیں ملے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَأَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا اِنَّ اللهَ مَعَ الصبرين (الانفال: 47) اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم بزدل بن جاؤ گے اور تمہارا رعب جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ بات آج مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر سو فیصد ان پر پوری ہوتی نظر آتی ہے کہ انہی لڑائی اور جھگڑوں کی وجہ سے مسلمانوں کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔آپس کے بے شمار شدت پسند گروہوں کی وجہ سے اکثر ملک جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں۔مغربی طاقتوں کے آگے یہ لوگ ہاتھ پھیلاتے ہیں۔بیشک مسلمان ممالک کی ایک تنظیم ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے لیکن اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔نہ آپس کا اتحاد ہے جس کی وجہ سے ملکوں میں امن وسکون قائم ہو۔نہ غیر مسلم ممالک کے سامنے ان کی کوئی حیثیت ہے۔ان کی باگ ڈور بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ان مسلمان ملکوں میں سے کسی ملک کا صدر یا وزیر اعظم حتی کہ فوجی سربراہ بھی کسی مغربی ملک میں آکر یہاں کے صدروں یا وزیر اعظموں سے بات کرتے ہیں یا یہ لوگ ان کی کچھ پذیرائی کر دیتے ہیں تو ہمارے یہ لیڈر سمجھتے ہیں کہ جیسے دنیا جہان کی نعمتیں ان کو مل گئیں۔خدا تعالیٰ کا خانہ خالی ہے۔اس کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اور اس کو چھوڑ کر دنیا داروں کی طرف جھکاؤ ہے اور یہ لوگ اسی کو اپنی بقا کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔پس کس کس بات کا ذکر کیا جائے جو مسلمان کہلانے والے ممالک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ایک ظلم ہوتا ہے۔چند دن عوام پر اثر رہتا ہے، شور مچاتے ہیں اور پھر عوام الناس کی بھی جو اکثریت ہے وہ انہی ظالموں کے ہاتھوں آلہ کار بن جاتی ہے۔پس جب تک خدا تعالیٰ کی بات نہیں مانیں گے جب تک دشمنوں سے بھی انصاف کے معیار قائم نہیں کریں گے۔جب تک ہر سلام کرنے والے کو امن نہیں دیں گے جب تک اپنے بھائی چارے کے معیاروں کو قائم نہیں کریں گے جب تک حکومت رعایا کا خیال نہیں رکھے گی جب تک رعایا حکومت کی اطاعت گزار نہیں ہوگی۔جب تک خدا تعالیٰ کا خوف دلوں میں پیدا نہیں ہو گا اس وقت تک ایسے ظالمانہ واقعات ہوتے رہیں گے۔کاش کہ یہ باتیں ہمارے لیڈروں اور علماء