خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 757 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 757

خطبات مسرور جلد 12 757 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء تین (1/3) سے زیادہ شہری مارے گئے۔ISIS کے ذریعے ہزاروں لوگ مارے گئے۔سینکڑوں عورتوں اور لڑکیوں کو اس لئے مار دیا گیا، ایک لائن میں کھڑا کر کے گولی سے اڑا دیا گیا کہ انہوں نے ان لوگوں سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا بلکہ بعض ذرائع کے مطابق ظلموں اور موتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔یہ ساری چیزیں دیکھ کر اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والے انسان کا دماغ چکرا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اسلام کے نام پر ہو رہا ہے۔یہ دیکھ کر انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ کس اسلامی تعلیم کے نام پر یہ عمل ہو رہا ہے۔کیا یہ سب کچھ اس خدا کے نام پر ہو رہا ہے جو رحمان خدا ہے، جو رؤوف و رحیم خدا ہے، جو اتنا مہربان ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس رسول کے نام پر یہ ظلم ہورہا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے رَحمَةً لِلْعَالَمِین کہا ہے۔اس شریعت کے نام پر یہ ظلم ہو رہا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دشمن سے بھی عدل وانصاف کو پکڑے رکھنے کی تلقین کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا - هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔(المائدة: 9) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔اب یہاں تو اللہ تعالیٰ انصاف کے معیاروں کو ایک مومن کے لئے اونچا کر رہا ہے۔اگر یہ نہیں تو ایمان نہیں کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انصاف کے معیاروں سے نیچے آنے پر تمہیں مائل نہ کرے۔انصاف کی تعلیم میں ایسے نمونے دکھاؤ کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا پر ظاہر ہو جائے۔تمہارے انصاف اور نیکی کے نمونے اسلام کی خوبصورت تعلیم کے گواہ بن جائیں۔کسی کی انگلی اسلامی تعلیم پر نہ اٹھے۔کاش کہ یہ مسلمان کہلانے والے اپنے جائزے لیں کہ کیا ان کے نمونے اسلامی تعلیم کی طرف غیر مسلموں کو کھینچ رہے ہیں۔ان لوگوں کے عمل تو اپنوں کو بھی دُور دھکیل رہے ہیں۔جن بچوں نے اپنے ساتھیوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنتے دیکھا ہے کیا وہ ان لوگوں کو کبھی مسلمان سمجھیں گے؟ اور اگر سمجھیں گے تو یہ سوال ان کے ذہنوں میں پیدا ہوں گے کہ کیا یہ اسلام ہے جس کو ہم مانیں؟ پس یہ لوگ صرف ظاہری ظلم اور قتل و غارت نہیں کر رہے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی برباد کر رہے ہیں۔اسلام سے دور لے کر جا رہے ہیں۔کاش کہ مسلمان علماء کہلانے