خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 743
خطبات مسرور جلد 12 743 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء نے ایک طرف تو آپ کے اخلاق دکھا کر آپ کی عزت قائم کی (کہ غیر احمدی جو وکیل تھا اس کی نظر میں بھی آپ کا مقام بہت بلند ہو گیا ) اور دوسری طرف غیر معمولی سامان پیدا کر کے مولوی صاحب کو بھی ذلیل کرا دیا۔اور یہ اس طرح ہوا۔(مولوی صاحب کی ذلت ) کہ وہی ڈپٹی کمشنر جو پہلے سخت مخالف تھا اس نے جو نہی آپ کی شکل دیکھی (ایک طرف تو کہ رہا تھا میں پکڑوں گا جب شکل دیکھی ، آپ کا چہرہ دیکھا ) اس کے دل کی کیفیت بدل گئی اور باوجود اس کے کہ آپ ملزم کی حیثیت میں اس کے سامنے پیش ہوئے تھے اس نے کرسی منگوا کر اپنے ساتھ بچھوائی اور اس پر آپ کو بٹھایا۔جب مولوی محمد حسین صاحب گواہی کے لئے آئے تو چونکہ وہ اس امید میں آئے تھے کہ شاید آپ کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا کم سے کم آپ کو ذلت کے ساتھ کھڑا کیا گیا ہوگا۔جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا ہوا ہے تو وہ غصہ سے مغلوب ہو گئے اور جھٹ مطالبہ کیا کہ مجھے بھی کر سی دی جائے۔۔۔۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں معزز خاندان سے ہوں اور گورنر صاحب سے ملاقات کے وقت بھی مجھے کرسی ملتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا کہ ملاقات کے وقت تو چوہڑے کو بھی کرسی ملتی ہے مگر یہ عدالت ہے۔مرزا صاحب کا خاندان رئیس خاندان ہے۔ان کا معاملہ اور ہے۔“ (خطبات محمود جلد 17 صفحہ 553 تا 555) اب چہرہ دیکھ کر ایک ڈپٹی کمشنر کے اور وہ بھی انگریز کے رویے میں جو تبدیلی پیدا ہوئی جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ اب میں پکڑوں گا کیونکہ معمولی بات نہیں ہے۔کیپٹن ڈگلس جو تھے ان کی مخالفت کوئی معمولی مخالفت نہیں تھی بلکہ اس نے مذہبی رنگ اختیار کر لیا تھا۔اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ چند دن پہلے اس نے کہا تھا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح کا دعویٰ کیا ہے اور اس طرح وہ ہمارے خدا کی ہتک کر رہا ہے اس کو آج تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں؟ جب مسل آئی تو (ڈپٹی کمشنر کیونکہ اس پر وارنٹ جاری کرنا چاہتا تھا ) مسل خواں نے کہا۔جناب والا ! یہ کیس وارنٹ کا نہیں بلکہ سمن کا کیس ہے اس لئے وارنٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔سمن بھیجا جا سکتا ہے۔ان دنوں جلال الدین ایک انسپکٹر پولیس تھے جو احمدی تو نہیں تھے لیکن بڑے ہمدرد انسان تھے۔انہوں نے بھی ڈپٹی کمشنر کو توجہ دلائی کہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ وارنٹ جاری کیا جا رہا ہے۔یہ وارنٹ کا کیس نہیں سمن کا کیس ہے۔لہذا وارنٹ کے بجائے سمن بھیجنا چاہئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سمن جاری کیا گیا اور انہی جلال