خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 740 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 740

خطبات مسرور جلد 12 740 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء لیکن انہوں نے جو بھی دریدہ دہنی کی جاسکتی تھی ، گند بکا جا سکتا تھا بگا۔اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک جلسہ منعقد کیا یا کہنا چاہئے ایک اجلاس کی صورت تھی جہاں آپ نے ان اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کے جواب بھی دیئے اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثابت کی۔بہر حال وہ ساری با تیں تو نہیں ، ایک آدھ اقتباس میں اس میں سے لیتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ: حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو آپ نے یہاں کے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار باعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو مگر کسی کو جرات نہ ہوئی بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِم (یونس : 17) اس کے تحت ہر ایک نے یہ گواہی دی کہ آپ کی پہلی زندگی بالکل پاک تھی یا کم از کم اعتراض نہیں اٹھا سکے۔پھر آپ کہتے ہیں کہ ”مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہو گیا اس نے اپنے رسالہ میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔علماء نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے۔“ جو نفسیات کے ماہر ہیں وہ یہ یہی کہتے ہیں کہ جو اخلاقی برائیاں ہیں وہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں ایک دم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اور بے نقص اور روشن ہے کہ کسی کو جرات نہیں ہوئی۔( معیار صداقت ،انوار العلوم جلد 6 صفحہ 61) پھر اللہ تعالیٰ سورۃ مومن میں فرماتا ہے کہ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا (المؤمن : 52) کہ ہم اپنے رسول کی مددفرماتے ہیں۔یہ مدد ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کس طرح دیکھتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ آپ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہو گیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے۔مقدمے آپ پر جھوٹے اقدام قتل کے بنائے گئے۔چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور ایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔مجسٹریٹ وہ جو اس دعوی کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مہدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں۔میں پکڑوں گا مگر جب مقدمہ ہوتا ہے وہی