خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 736
خطبات مسرور جلد 12 736 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء زمانے میں وہ ایک جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے طور پر بھیجا ہے وہ مسیح موعود ہی ہیں تو فرمایا کہ پھر دیکھو کہ کس طرح ہر کام میں برکت پڑے گی۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور یہی بات ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ملتی ہے۔اور جب تک یہ وحدت قائم نہیں ہوگی نہ خدا تعالیٰ ملے گانہ دوسری کامیابیاں مل سکیں گی۔خدا تعالیٰ بھی انہی کو ملتا ہے تو حید کا صحیح اور اک بھی انہیں ہی ہوتا ہے جن میں وحدت ہوتی ہے۔پس ہمیں بھی صرف اس بات پر راضی نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے بیعت کر لی۔بیعت کے معیار کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اور وہ ہے جیسا کہ بیعت کے لفظ سے پتا لگتا ہے بک جانا۔اور تبھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بھی ہم وارث بنیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال دے کر اور دوسرے صحابہ کا عمومی ذکر کر کے یہ بتایا کہ یہ لوگ صائب الرائے اور دنیاوی اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے تھے اور وقت آنے پر ان کی یہ خوبیاں ان پر ظاہر ہوئیں اور بڑے شاندار طریق پر انہوں نے حکومت چلائی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لگتا تھا کہ انہیں کچھ پتا نہیں۔مکمل اطاعت اور فرمانبرداری اور حکموں پر چلنا ان کا کام تھا۔اپنی تمام راؤں اور دانشوں اور عظمندیوں کو وہ لوگ انتہائی حقیر سمجھتے تھے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک دن صحابہ نے کس طرح دنیا کی رہنمائی کی۔یہی تربیت تھی جس نے خلافت راشدہ میں بھی اتحاد کے اعلیٰ ترین نمونے دکھائے۔تاریخ میں جو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ کی دانشمندی ، بے نفسی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھنے کا ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک جنگ کے دوران حضرت ابو عبیدہ کو حضرت عمر کا خط ملا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا ذکر تھا اور حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کرتے ہوئے حضرت ابو عبیدہ کو امیر لشکر مقررفرمایا تھا۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد کو وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر اس وقت تک اس کی اطلاع نہیں کی جب تک اہل دمشق کے ساتھ صلح نہیں ہوگئی۔اور جو معاہدہ صلح تھا اس پر آپ نے حضرت خالد بن ولید سے دستخط کر وائے۔حضرت خالد بن ولید کو بعد میں پتا چلا کہ مجھے تو معزول کر دیا گیا تھا اور ان کو سپہ سالار بنایا گیا تھا تو انہوں نے شکوہ کیا مگر آپ ٹال گئے اور ان کے کارناموں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مطمئن کر دیا۔اسلامی جرنیل حضرت خالد بن ولید نے اس موقع پر اطاعت خلافت کا انتہائی شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے کہا کہ لوگو! تم پر اس امت کے امین امیر مقرر ہوئے ہیں۔(حضرت ابوعبیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امین کے لقب سے خطاب دیا تھا۔) حضرت ابوعبیدہ نے جواب میں کہا