خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 734 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 734

734 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء خطبات مسرور جلد 12 کا ساتھ دینا ہے اور نپولین کے سپاہیوں کو ختم بھی کرنا ہے۔بہر حال ہم حملہ پوری طرح کر نہیں سکتے درہ چھوٹا ہے اور مارے جاتے ہیں کیونکہ نپولین نے خود ہی ان حکومتی سپاہیوں میں بھی تربیت کر کے اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کیا تھا اس نے ان سے کہا اپنے سپاہیوں سے جواب اس کے ساتھ تھے کہ ان سے جا کے درہ میں کھڑے ہو کے کہو کہ نپولین کہتا ہے کہ راستہ چھوڑ دو لیکن اس پر بھی حکومتی سپاہی گولیوں کی بوچھاڑ کرتے رہے کہ ہم نے بائبل پر قسمیں کھائی ہیں اس لئے اب نپولین کا حکم نہیں مان سکتے۔نپولین کو اس پر یقین نہ آیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میری ایسی تربیت ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ میری بات نہ مانیں کیونکہ میں نے ہی ان میں فرمانبرداری کا مادہ پیدا کیا ہے، اطاعت کا مادہ پیدا کیا ہے۔کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے سپاہیوں پر گولیاں چلائیں۔پھر اس نے بھیجا اور مزید آدمی مارے گئے یہی انجام ہوا آخر نپولین خود گیا کہ میں دیکھوں گا وہ کس طرح میری بات نہیں مانتے۔چنانچہ وہ گیا اور اس نے کہا میں نپولین ہوں اور تم سے کہتا ہوں کہ راستہ چھوڑ دو۔حکومتی فوج کے افسر نے کہا کہ اب وہ دن گئے ہم نے نئی حکومت سے وفاداری کی قسم کھائی ہے مگر نپولین کو یہ یقین تھا کہ فرمانبرداری کا سبق تو اس نے لوگوں کو دیا ہے اور یہ سبق اتنی جلدی یہ لوگ بھول نہیں سکتے۔نپولین نے انہی حکومتی فوجیوں کو کہا کہ میری فوجوں نے تو بہر حال آگے جانا ہے۔اگر تم میر اسکھایا ہوا سبق بھول گئے ہو۔تو لو میں سامنے کھڑا ہوں جس سپاہی کا دل چاہتا ہے وہ اپنے بادشاہ کے سینے میں گولی ماردے۔میں ہی اب تک تم پر حکومت کرتا رہا ہوں۔اگر تم چاہتے ہو کہ اپنے بادشاہ کو مارنا ہے تو لو میں کھڑا ہوں تم میرے سینے میں گولی مارو۔جب نپولین نے یہ کہا تو ان سپاہیوں کا جو پرانا وفاداری اور فرمانبرداری کا جذبہ تھا وہ واپس آ گیا۔انہوں نے نپولین زندہ باد کا نعرہ لگایا اور دوڑ کر اس میں شامل ہو گئے بلکہ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض بچوں کی طرح رور ہے تھے۔جب یہ خبر جنرل کو ملی جو وہ فوج کے بڑے حصے کے ساتھ پیچھے تھا۔تو وہ آگے بڑھا کہ حملہ کرے لیکن جب اس کے کان میں نپولین کی آواز پہنچی کہ تمہارا بادشاہ نپولین تمہیں بلاتا ہے تو وہ فوج اور جنرل بھی اپنا جو بعد کا اقرار تھا وہ بھول کر اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور فرمانبرداری کا جو پہلا اقرار تھا اس پر قائم ہو گئے۔بہر حال یہ نپولین کی کوششیں تھیں کہ فرانس کے شدید تفرقے کو دور کر کے اس نے فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کر دیا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ یہ مثال بیان کر کے فرماتے ہیں کہ : نپولین یا اس جیسے دوسرے لیڈروں کے پاس تو خدا تعالی کی وہ تائید نہیں تھی جو سچے مذہب کے پاس ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی انہوں نے انقلاب پیدا کیا لیکن بیعت کرنے والوں کی تو مختلف صورت ہوتی