خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 733 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 733

خطبات مسرور جلد 12 733 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء نپولین کے بارے میں ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس نے فرانس کو ایسے وقت میں سنبھالا جب وہ اپنے عروج سے زوال کی طرف جا رہا تھا۔نیچے نیچے گر رہا تھا۔ملک کی حالت خراب سے خراب تر ہو رہی تھی۔نپولین نے لوگوں سے کہا کہ جب تک تم میں تفرقہ اور پھاڑ ہے تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اگر تم اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ اپنے اندر پیدا کرو تو تم جیت جاؤ گے، ترقیاں حاصل کرو گے، اپنا مقام حاصل کر لو گے۔چنانچہ ایسی روح اس نے پیدا کی کہ جو اس کے ارد گرد تھے ہر بات ماننے والے تھے جو ملک کے خیر خواہ لوگ تھے انہوں نے اس کی بات مان لی اور اس کے اردگرد جمع ہونے شروع ہو گئے اسی کو اپنا لیڈر بنالیا اور اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین نمونہ دکھا یا۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ ایسا نمونہ دکھایا کہ اس نے نپولین کی اپنی زندگی کو بھی بدل دیا۔باوجود اس کے کہ خود اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا اس کو جب عملی طور پر اس کے سامنے اطاعت آئی تب اس نے اپنے آپ میں مزید انقلاب پیدا کیا۔بہر حال ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک بڑی جنگ کے بعد نپولین ہار گیا اور اٹلی کے ایک جزیرے میں قید کر دیا گیا۔وہاں کچھ وقت کے بعد کچھ لوگوں کی مدد سے آزاد ہوا۔دوبارہ فرانس کے ساحل پر آیا۔اس وقت تک فرانس میں نئی حکومت قائم ہو چکی تھی۔نیا نظام تھا۔بادشاہ نے پادریوں کو بلا کر ان کے ذریعہ جرنیلوں اور سپاہیوں سے بائبل پر ہاتھ رکھوا کر قسمیں لی تھیں۔یہ عہد لیا تھا کہ وہ نئی حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔بادشاہ نے بائبل پر ہاتھ رکھوا کر قسمیں اس لئے لی تھیں کہ اس کو پتا تھا کہ نپولین نے لوگوں میں اطاعت اور فرمانبرداری کی ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ اگر وہ واپس آ گیا تو لوگ پھر اس کے ساتھ مل جائیں گے۔نپولین جب کسی طریقے سے قید سے رہا ہو گیا اور کچھ ساتھیوں نے اس کی مدد کی تو قید سے رہا ہو کر وہ واپس فرانس آیا۔وہاں اس نے اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو ، زمینداروں کو ، عام لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔عوام میں سے جو اس کے وفادار تھے ان کو جمع کرنا شروع کر دیا۔وہ تجربہ کار فوجی نہیں تھے اسلحہ بھی ان کے پاس اتنا نہیں تھا۔بہر حال جب بادشاہ کو پتا لگا تو اس نے ایک جنرل کو فوج دے کر بھیجا کہ اس کو ختم کریں۔اتفاقاً ان کا آمنا سامنا ایک ایسی جگہ ہو گیا جہاں ایک تنگ درہ تھا۔جہاں سے صرف آدمی کندھا ملا کر گزر سکتے تھے۔نپولین نے اپنے فوجیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا وہ آگے بڑھے لیکن حکومتی فوجیوں نے انہیں گولیوں کی بارش کر کے ختم کر دیا۔پھر اس نے اور آدمی بھیجے وہ بھی مارے گئے ان کا بھی وہی انجام ہوا۔آخر سپاہیوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔دشمن سامنے ہے اور جگہ تنگ ہے ادھرادھر ہم ہو نہیں سکتے۔اور پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے بائبل پر قسمیں کھائی ہیں کہ حکومت