خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 732 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 732

خطبات مسرور جلد 12 732 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء ہے۔پس جو لوگ اپنی نمازوں اور عبادتوں پر بہت مان کر رہے ہوتے ہیں اور اطاعت سے باہر نکلتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔پھر اطاعت کا معیار حاصل کرنے کے لئے ایک اہم بات آپ نے بیان فرمائی کہ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کرنا ضروری ہے اپنے تکبر کو مارنا ہوگا اپنی انانیت پر چھری پھیرنی ہو گی اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے موافق کرنا ہو گا تب ہی اطاعت کا معیار حاصل ہوگا۔ورنہ آپ فرماتے ہیں اس کے بغیر اطاعت ممکن ہی نہیں۔آپ نے فرمایا کہ بڑے بڑے موحدوں کے دلوں میں بھی بت بن سکتے ہیں۔ایسے لوگ جو خدائے واحد کی عبادت کرنے والے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد بقول ان کے ان کے دل میں ہے۔فرمایا کہ ان کے دلوں میں بھی بت بن سکتے ہیں۔بیشک ایک خدا کی عبادت کا دعوی ہو لیکن خود پسندی اور فخر کے بت دلوں میں بیٹھے ہوں گے جو ایک وقت میں پھر انسان کو ادنی اطاعت سے بھی باہر نکال دیتے ہیں۔بڑی بڑی باتیں تو ایک طرف رہیں۔آپ نے واضح فرمایا کہ صحابہ رضوان اللہ ٹیم نے سچی اطاعت کے بعد ہی اپنی عبادتوں کے وہ اعلیٰ ترین نتائج حاصل کئے جو ہمارے لئے آج نمونہ ہیں۔اطاعت کس طرح ہونی چاہئے ؟ ایک حدیث میں آتا ہے آپ نے یہ فرمایا کہ تمہارے اوپر اگر حبشی غلام بھی امیر مقرر کیا جائے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ منظقی کے سر والا بھی اگر امیر مقرر کیا جائے یعنی اگر اس میں عقلی لحاظ سے کچھ کمیاں بھی ہوں تو اس کی بھی اطاعت کرو۔(صحیح البخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة۔۔۔حديث نمبر (7142) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قومی ترقی کو بھی اطاعت سے باندھ کر واضح فرمایا کہ کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک فرمانبرداری کے اصول کا اختیار نہیں کریں گے۔پس اس اصول کو اپنا نا ہی ترقی کا راز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ترقی جماعت کے ساتھ رہنے ، امام وقت کی باتیں سننے اور اطاعت سے ہی ملنی ہے۔اس کے بغیر ترقی نہیں مل سکتی۔آج اس اصل کو اگر مسلمان بھی سمجھ لیں تو ایک ایسی عظیم طاقت بن جائیں جس کا دنیا کی کوئی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ہمیں کامل فرمانبرداری کے معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اطاعت کو روحانی جماعتوں کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے انجام کے لحاظ سے بہترین کہا ہوا ہے۔اور یہ تو ہے ہی کہ جب اطاعت کریں گے تو انجام بہتر ہو گا جس سے انقلاب پیدا ہو گالیکن دنیاوی نظاموں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فرمانبرداری کی روح کیسے کیسے انوکھے کام دکھاتی ہے۔