خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد 12 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء نے دیا، ہر وقت اور ہر دور کے لئے ہے۔اگر خلافت برحق ہے، اگر خلافت پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام دیا گیا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلفاء جن امور کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ہم ان امور کو دنیا میں قائم کر کے رہتے ہیں۔وہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَطى لَهُمْ (النور : 56 ) یعنی وہ دین اور وہ اصول جو خلفاء دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ، ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اُسے دنیا میں قائم کر کے رہیں گے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 458 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولا ئی 1936 ء) پس یہ باتیں جماعت کے ہر فرد کے دل میں راسخ ہونی چاہئیں اور یہ مربیان اور اہلِ علم کا کام ہے کہ اسے ہر ایک کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔پس اس ذمہ داری کو سمجھیں، اس بات کے پیچھے پڑ جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات اور آپ کے فیوض لوگوں پر ظاہر کرنے ہیں۔خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کا بار بار تذکرہ کرنا ہے، لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟ اور خلیفہ وقت کی ہر صورت میں اطاعت اور نظام کی فرمانبرداری کی ایک اہمیت ہے اور ہر ایک پر یہ اہمیت واضح ہونی چاہئے۔پس جب یہ ہوگا تو دلوں کے وساوس بھی دُور ہوں گے۔اور اس طریق سے وساوس دور کرنے والوں کی تعداد، یا جن کے دلوں کے وساوس دور ہو جائیں اُن کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ہر فتنہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔جماعت میں ہر لحاظ سے عملی اصلاح کا ہر پہلو نظر آ رہا ہوگا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا بڑا مقصد ہے۔یا درہنا چاہئے کہ ہمیں ختم نبوت اور وفات مسیح کے متعلق مسائل جاننے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت مخالفین کے جواب دینے کے لئے ہے لیکن عمل اور عرفان کو بھی اپنی جماعت میں رائج کرنے کے لئے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔پس جتنی توجہ ہم نے باہر کے محاذ پر دینی ہے، اتنی بلکہ اُس سے بڑھ کر اندرونی محاذ پر بھی ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ہماری روحانی پاکیزگی اور ہماری عملی اصلاح انشاء اللہ تعالی زیادہ بڑا انقلاب لانے کا باعث بنے گی ، بہ نسبت اس تبلیغ کے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ارشاد یقیناً بڑا اہم ہے کہ اگر وہ یعنی علماء اور مربیان ” قلوب کی اصلاح کریں اور لوگوں کے دلوں میں عرفان اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں تو کروڑوں کروڑ لوگ احمدیت میں داخل