خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد 12 66 خطبه جمعه فرموده مورخہ 31 جنوری 2014ء خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے؟ پھر دیکھیں کہ جو نوجوان دنیا داری کے معاملات میں نقل کی طرف رجحان رکھتے ہیں، خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے بنیں گے۔پھر صرف چند مربیان یا علماء غیر از جماعت مولویوں کے چھکے چڑانے والے نہیں ہوں گے بلکہ یہ نمونے جو ہمارے نوجوان مرد، عورتیں، بچے قائم کر رہے ہوں گے یہ دنیا کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوں گے۔پس اپنی عملی حالتوں کی درستی کی طرف توجہ کی سب سے پہلے ضرورت ہے۔اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو کسی بات کوسن کر انقباض نہ ہو۔خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے۔اور پھر عہد یداران کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔بعض ایسی مثالیں بھی سامنے آ جاتی ہیں کہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے یہ غلط کام کیا اور یہ غلط فیصلہ کیا یا فلاں فیصلے کو اس طرح ہونا چاہئے تھا۔بعض قضا کے فیصلوں پر اعتراض ہوتے رہتے ہیں۔یا فلاں شخص کو فلاں کام پر کیوں لگایا گیا؟ اس کی جگہ تو فلاں شخص ہونا چاہئے تھا۔خلیفہ وقت کی فلاں فلاں کے بارے میں تو بڑی معلومات ہیں ، علم ہے ، اور فلاں شخص کے بارے میں اُس نے باوجود علم ہونے کے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔اس قسم کی باتیں کرنے والے چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن ماحول کو خراب کرتے ہیں۔اگر مربیان اور ہر سطح کے عہدیداران ، پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں، ہر تنظیم کے اور جماعتی عہد یداران اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں تو بعض دلوں میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ،کبھی پیدا نہ ہوں۔خاص طور پر مربیان کا یہ کام ہے کہ اُنہیں سمجھا ئیں اور بتائیں کہ تمام برکتیں نظام میں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو جب کسی قوم پر لعنت ڈالنا چاہتا ہے تو نظام کو اُٹھا لیتا ہے۔پس جب یہ باتیں ہر ایک کے علم میں آ جائیں گی تو بعض لوگ جن کو ٹھوکر لگتی ہے وہ ٹھو کر کھانے سے بچ جائیں گے۔ایسا طبقہ چاہے وہ چند ایک ہی ہوں ہمیشہ رہتا ہے جو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتا ہے اور ادھر اُدھر بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا ہے کہ خلیفہ خدا تو نہیں ہوتا، وہ بھی غلطی کر سکتا ہے، جیسا کہ عام آدمی غلطی کر سکتا ہے، ٹھیک ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس کا بڑا اچھا جواب دیا ہے۔اور یہ جواب جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی