خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 721
خطبات مسرور جلد 12 721 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے۔جب سب طرف سے مایوس ہو جائے ، کوئی ظاہری وسیلہ کام نہ کر سکے تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے، اس کے سامنے اضطرار ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ عظیم اول کا سنایا کرتے تھے بلکہ خود بھی فرمایا کہ میں کئی مرتبہ یہ سنا چکا ہوں کہ ایسی حالت میں جب دہر یہ بھی خدا تعالیٰ پر ایمان لے آتے ہیں۔واقعہ یوں ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں 1918ء میں جرمنی نے اپنی تمام طاقت جمع کر کے اتحادی فوجوں پر حملہ کر دیا۔تو اس وقت انگریز فوجوں پر یا اتحادی فوجوں پر ایک ایسا وقت آیا کہ کوئی صورت ان کے بچاؤ کی نہیں تھی۔سات میل لمبی دفاعی لائن ختم ہو گئی۔فوج کا کچھ حصہ ایک طرف سمٹ گیا ، کچھ حصہ دوسری طرف سمٹ گیا۔اور اس میں اتنا خلاء پیدا ہو گیا کہ جرمن فوجیں بیچ میں سے آسانی سے گزر کر پچھلی طرف سے آ کے حملہ کر سکتی تھیں اور انگریز فوج کو تباہ کر سکتی تھیں۔اس وقت محاذ پر جو جرنل تھا اس نے کمانڈر انچیف کو اطلاع دی کہ میرے پاس اتنی فوج نہیں ہے۔یہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔اس ٹوٹی ہوئی صف کو درست کرنا اب میرے بس میں نہیں رہا۔یہ ایسا وقت تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آج ہماری فوج تباہ ہو جائے گی اور انگلستان اور فرانس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ایسے وقت میں جب وہاں کمانڈر کی تارپہنچی ہے، انتہائی بے بسی کی حالت کی تار کہ بس اب تباہی آئی کہ آئی۔تو جب کمانڈر کی یہ تار پہنچی تو اس وقت وزیراعظم وزراء کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھا تھا۔کوئی اہم مشورہ ہو رہا تھا۔اس وقت جب اطلاع پہنچی تو وزیر اعظم کر ہی کیا سکتا تھا۔ایک تو کوئی زائد فوج موجود نہیں تھی اور اگر ہوتی بھی تو اتنی جلدی اس جگہ فوج بھیجی نہیں جاسکتی تھی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یورپ کا مذہب بیشک عیسائیت ہے لیکن اگر اسے اندر سے دیکھا جائے، چھان بین کی جائے تو بالکل کھو کھلا ہے اور عملاً لوگوں کی اکثریت مادہ پرست اور دہر یہ ہیں۔اور اس زمانہ میں تو اسی فیصد عملا دہر یہ ہونے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔لیکن بہر حال اس وقت وہ مادہ پرست یورپ جس کی نگاہ عموماً خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھتی تھی ، اپنے وسائل پر ان کو بڑا گھمنڈ اور مان تھا اور ایسا طبقہ جوحکومت کر رہا ہو اسے تو ویسے بھی اپنی طاقت اور قوت پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے۔ان میں خدا تعالیٰ کا خانہ صرف نام کا ہی ہوتا ہے۔تو ان کے اس وقت سب سے بڑے لیڈر سردار نے جو اپنی طاقت اور قوت اور شان و شوکت کے فخر میں مست رہتا تھا اور ان کو یقین تھا کہ ہماری اتحادی فوجیں ہیں اب ہم جیت جائیں گے ، اس نے بھی