خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 722 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 722

خطبات مسرور جلد 12 722 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء محسوس کیا کہ اس وقت کوئی ظاہری مدد نہیں ہو سکتی جو ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ آؤ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہماری مدد کرے۔چنانچہ سب گھٹنوں کے بل جھک کر دعا کرنے لگے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ کیا تعجب ہے کہ وہ اس دعا کے نتیجہ میں ہی اس تباہی سے بچ گئے ہوں۔پس جیسا کہ میں نے یہ آیت پڑھی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشکل وقت میں ہر دوسری ذات تمہارا ساتھ چھوڑ جاتی ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ساتھ رہتی ہے، جو کام آتی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اضطرار میں کی گئی جو دعائیں ہیں وہ قبول ہوتی ہیں چاہے دہر یہ بھی دعا مانگ رہا ہو۔اللہ تعالیٰ دہریوں کو بھی اپنی ہستی کا ثبوت دینے کے لئے بعض دفعہ نشان دکھاتا ہے۔اگر اس کی قسمت میں ہو تو وہ نشان ہی اس کی عاقبت سنوارنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور آجکل بھی ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں کہ دہر یہ کسی نشان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ پر یقین لے آتے ہیں۔ہاں اگر کوئی کسی نبی یا اس کی جماعت کا مقابلہ کرے اور پھر چاہے وہ جتنی بھی اضطرار کی حالت میں دعائیں کر رہا ہو پھر وہ قبول نہیں ہوتیں کیونکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کے خلاف ہے جس نے ہو کر رہنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے انبیاء نے کامیاب ہونا ہے۔بہر حال جرمنی اور انگلستان کی لڑائی میں تو دونوں فریق ایک ہی جیسے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کی عاجزی سے کی گئی دعا کو سن لیا اور ایسے سامان پیدا ہوئے کہ جرمن فوج کو خبر نہ ہوسکی کہ ان کے سامنے کی صف ٹوٹ چکی ہے۔اس وجہ سے انہوں نے اس صف کے ٹوٹے ہوئے ہونے سے فائدہ نہیں اٹھایا۔اس کا مزید یہ بھی واقعہ ہے کہ اس وقت صرف یہ نہیں ہوا تھا کہ جرمنوں کو پتا نہیں چلا اس لئے جنگ کا پانسا ان کے حق میں نہیں پلٹا بلکہ کمانڈر انچیف نے ایک افسر کو بلا کر کہا جس پر اس کو یقین تھا کہ یہ بڑے کام کا آدمی ہے اور کوئی نہ کوئی تدبیر نکال لے گا کہ مجھ سے زیادہ سوال نہ کرنا۔میدان جنگ کی یہ صورتحال ہے۔وہاں فوج کوئی نہیں ہے۔صف ٹوٹ چکی ہے۔راستہ خالی ہے۔اب جاؤ اور کوئی انتظام کرو کہ عارضی طور پر کسی طرح کوئی صف بندی ہو جائے۔وہ افسر بجائے اس کے کہ کمانڈر انچیف سے یہ سوال کرتا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ صف جوڑی جا سکے جب کہ فوجیں ادھر اُدھر ہو چکی ہیں اور کوئی ذریعہ نہیں ، اپنی گاڑی میں بیٹھا۔سیدھا اس جگہ گیا جہاں غیر فوجی کارکن فوج کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔وہ وہاں گیا اور اس نے ان کو جمع کیا اور کہنے لگا کہ تمہیں ملک کی خدمت کا بڑا شوق ہوتا تھا اور فوج کولڑتا دیکھ کر تمہارے جذبات بھی بھڑکتے تھے، دل میں تمنا پیدا ہوتی تھی کہ ہم بھی ملک اور قوم کے