خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 720 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 720

خطبات مسرور جلد 12 720 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء نجات ہو جائے تو بھول جاتے ہو۔یہ انسانی فطرت ہے کہ مشکل وقت میں نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور دوسرے سارے مددگاروں کو بھول جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اگر ان کو اس مشکل سے، اس مشکل وقت سے نجات مل جائے تو وہ ہمیشہ خدا ہی کو مدد کا ذریعہ سمجھیں گے، اسے ہی پکاریں گے۔لیکن خطرہ کے ختم ہوتے ہی دنیا داری، تکبر اور فخر دوبارہ ان میں پیدا ہو جاتا ہے۔پس انسان انتہائی ناشکرا اور خود غرض ہے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ کا رحم کس قدر وسیع ہے کہ باوجود یہ علم ہونے کے کہ خشکی پر پہنچ کر یہ خدا تعالیٰ سے بغاوت کریں گے، پھر دُور ہٹ جائیں گے۔ان کی عاجزی اور انکسار اور دعا اور اضطرار جو ہے یہ عارضی ہے۔ان کی پھر بھی ان کی اضطرار کی حالت کی دعاؤں کو سنتے ہوئے انہیں بچا لیتا ہے۔پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نعوذ باللہ ظالم ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو خدا کو نہیں مانتے لیکن مشکل وقت میں ان کے منہ سے خدا کا ہی نام نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زلزلہ کی پیشگوئی فرمائی اور بڑا زلزلہ آیا۔اس وقت لاہور میڈیکل کالج کا ایک طالبعلم جو ہر روز اپنے ساتھی طالبعلموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں بحث کیا کرتا تھا بلکہ استہزاء کی حد تک چلا جاتا تھا۔زلزلہ کے دوران وہ جس کمرے میں تھا اسے محسوس ہوا کہ کمرے کی چھت گرنے والی ہے اور یہ یقین ہو گیا کہ اب کوئی طاقت اسے گرنے سے یعنی چھت کو گر نے سے بچا نہیں سکتی تو کیونکہ وہ ہندو خاندان سے تھا، اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔اگلے دن اس کے دوستوں نے پوچھا کہ تمہیں اس وقت کیا ہو گیا تھا ؟ تم تو خدا کو مانتے ہی نہیں۔تو اس حالت میں رام رام کا شور تم نے مچا دیا۔ہندوؤں کے نزدیک رام خدا تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے۔تو کہنے لگا کہ پتا نہیں مجھے کیا ہوا تھا، میری عقل ماری گئی تھی۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس وقت ہی اس کی عقل نے کام کیا اور جب تمام دنیاوی سہارے اس کی نظروں سے چھپ گئے، اوجھل ہو گئے تو اسے ایک ہی سہارا نظر آیا جوسب طاقتوں کا مالک ہے۔اسے خدا تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی اور مددگار دکھائی نہیں دیا۔پس جب تک انسان کو دوسرے ذرائع نظر آتے ہیں ان سے کام بنتا رہتا ہے وہ ان کی طرف توجہ دیتا رہتا ہے۔جب تک وہ دوسرے اسباب نظر آتے رہیں وہ ان اسباب کی ، ان ذرائع کی خوشامد میں کرنے میں لگا رہتا ہے۔کام کروانے کے لئے بلا وجہ خوشامد کو انتہا تک پہنچانے کے لئے دوسروں کی برائیاں بھی کرتا رہتا ہے۔ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن جب کوئی نظر نہ آئے تو