خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 711
خطبات مسرور جلد 12 711 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء گی۔تمہارا انجام پھر بدہی ہوگا۔فرمایا کہ اگر نا کافی سمجھا جاوے تو توجہ کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور ظہورِ نشان کے لئے ضروری ہے کہ اس میں توجہ کی جاوے اور اقبال الی اللہ کے لئے جوش ڈالا جاوے۔اور یہ تحریک اس وقت ہوتی ہے جب ایک صادق اور مخلص طلب گار ہو۔(اگر طلب میں سچائی ہے۔ماننے کی نیت ہے تب تو نشان ظاہر ہوتے ہیں۔صرف آزمانے کے لئے نہیں۔پھر فرمایا کہ ) یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ نشان عقلمندوں کے لئے ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے واسطے نشان نہیں ہوتے جو عقل سے کوئی حصہ نہیں رکھتے ہیں۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ہدایت محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال نہ ہو اور وہ فضل نہ کرے تو خواہ کوئی ہزاروں ہزار نشان دیکھے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور کچھ نہیں کر سکتا۔پس جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ نشانات گزشتہ سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے، ہم آئندہ کے لئے کیا امید رکھیں۔( فرمایا کہ ) نشانات کا ظاہر ہونا یہ ہمارے اختیار میں تو نہیں ہے اور نشانات کوئی شعبدہ باز کی چابک دستی کا نتیجہ تو نہیں ہوتے۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مرضی پر موقوف ہے۔وہ جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے۔اس وقت جو سوال نشان نمائی کا کیا جاتا ہے۔اس کے متعلق میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہی ڈالا ہے کہ یہ اقتراح اسی قسم کا ہے جیسا ابو جہل اور اس کے امثال کیا کرتے تھے۔( یعنی یہ سوال اور مطالبہ جو ہے یہ اسی قسم کا ہے جیسے ابو جہل اور اس کی طرح کے دوسرے لوگ کرتے تھے ) انہوں نے کیا فائدہ اٹھا یا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نشان صادر نہیں ہوئے تھے۔اگر کوئی ایسا اعتقاد کرے تو وہ کافر ہے۔آپ کے ہاتھ پر لا انتہا نشان ظاہر ہوئے مگر ابو جہل وغیرہ نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔اسی طرح پر یہاں نشان ظاہر ہورہے ہیں جو طالب حق کے لئے ہر طرح کافی ہیں لیکن اگر کوئی فائدہ نہ اٹھانا چاہے اور ان کو ر ڈی میں ڈالا جائے اور آئندہ خواہش کرے اس سے کیا امید ہو سکتی ہے؟ ( یعنی کہ وہ پہلے نشانات تو نہ دیکھے اور مزید کی خواہش کرتا رہے تو اس سے کیا امید ہو سکتی ہے ) وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کی بے حرمتی کرتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ سے ہنسی کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 444-445) آپ نے تو بے شمار جگہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قادیان میں آتے ہیں۔غیر جو آتے ہیں غیر مذہب کے لوگ آتے ہیں ان کا آنا بھی نشان ہے کہ کس کس طرح آتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 218-219)