خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 709
خطبات مسرور جلد 12 709 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء مطابق بنانے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آ گیا ہے۔تمام اخلاق ذمیمہ بھر گئے ہیں۔( یعنی برے اخلاق بھر گئے ہیں ) اور وہ اخلاص جس کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں ہوا ہے آسمان پر اٹھ گیا ہے۔( کوئی اخلاص نہیں رہا۔) خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق ، وفاداری ، اخلاص، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سرے سے ان قوتوں کو زندہ کرے۔وہ خدا جو ہمیشہ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْا کرتا رہا ہے اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لئے کئی را ہیں اختیار کی گئی ہیں۔ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔( یعنی اپنے آنے کے بارے میں فرما رہے ہیں ) دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے۔یعنی ذہن مزید کھل رہے ہیں۔علوم وفنون کی ترقی ہو رہی ہے۔فرمایا )۔۔اتمام حجت کے لئے آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے۔( بہت سارے نشانات جو آپ کے زمانے میں بھی ،طوفانوں کے بھی، چاند سورج گرہن کے بھی، زلزلوں کے بھی ظاہر ہوئے۔پھر فرمایا اور پھر قہری نشانات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے جن میں سے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اور اب جو اس شدت سے پھیل رہی ہے۔اس زمانے میں جو تھی) کہ کبھی گزشتہ نسلوں نے نہ دیکھی ہوگی اور بہت سے لوگ ہیں جو ان نشانات اور آیات سے فائدہ اٹھا ر ہے ہیں۔کوئی دن نہیں جاتا کہ لوگ بذریعہ خطوط یا خود حاضر ہو کر داخل بیعت نہیں ہوتے۔اگر چہ دنیا میں فسق و فجور اور شوخی و آزادی اور خود روی بہت بڑھ گئی ہوئی ہے تاہم یہ لوگ جو ہمارے سلسلے میں آتے ہیں یہ بھی اسی جماعت میں سے نکل نکل کر آتے ہیں۔( انہی لوگوں میں سے آ رہے ہیں۔) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بھی انہی میں ملے ہوئے ہیں۔( یعنی نیک فطرت لوگ بھی ان میں موجود ہیں۔یہی نہیں کہ سارے بگڑے ہوئے ہیں۔) خدا تعالیٰ ان لوگوں کو نکال لے گا اور ان کو سمجھ دے گا اور کچھ طاعون کا نشانہ ہو جائیں گے۔اسی طرح پر دنیا کا انجام ہوگا اور اتمام حجت ہوگی۔“۔۔۔۔۔۔( ملفوظات جلد 6 صفحہ 352 تا 354) پس آپ نے فرمایا کہ پڑھے لکھے لوگ ،سعید فطرت لوگ آ رہے ہیں اور اس کا تعلیم کی وجہ سے اثر ہے، دماغوں کے ذہنوں کے کھلنے کا اثر ہے جس کی وجہ سے وہ اس تعلیم کو سجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سمجھتے ہیں اور پھر اس کو قبول کرتے ہیں۔اور ہر علاقے میں اور ہر طبقے میں ہر ملک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں ہزاروں بلکہ اب تو لاکھوں کی تعداد میں