خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 698
خطبات مسرور جلد 12 698 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء تھا کہ اگر ساری دنیا بھی مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ دے تو میں نہیں چھوڑوں گا اور پھر اس سلسلہ کو دنیا میں قائم کروں گا۔میں نہیں جانتا۔میں نے کس حد تک اس عہد کو نباہا ہے مگر میری نیت ہمیشہ یہی رہی کہ اس عہد کے مطابق میرے کام ہوں۔“ یاد ایام۔انوار العلوم جلد 8 صفحہ 367-368) آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ہر فرد بلکہ بعد میں آنے والے بھی گواہ ہیں کہ آپ نے اس عہد کو خوب نبھایا بلکہ ہمارے لئے بھی عہدوں کو نبھانے کے لئے صحیح راستوں کی طرف آپ نے رہنمائی فرما دی۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے عہدوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت میں دو جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے۔( آ گیا ہوا ہے؟) یہ جنازہ حاضر جو ہے مکرمہ ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری عبدالرحیم صاحب مرحوم آف ملتان کا ہے جو آجکل مانچسٹر یو کے میں تھیں۔ان کی 77 سال کی عمر میں 11 نومبر کو وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔نیک صالح، نمازوں کی پابند خوش اخلاق ، صابر و شاکرہ خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ان کے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ایک بیٹے عبد المتین صاحب زعیم انصار اللہ مانچسٹر ہیں۔بیٹی صدر لجنہ مانچسٹر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہی ہیں۔ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ غائب ہے جو مکرم محمود عبداللہ شبوطی صاحب آف یمن کا ہے۔شبوطی صاحب 9 نومبر 2014ء کولمبی بیماری کے بعد وفات پاگئے۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کو آپ کے والد نے جامعہ احمد یہ ربوہ میں تعلیم کی غرض سے بھجوایا تھا جہاں سے آپ نے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔مکرم غلام احمد صاحب مبلغ سلسلہ کے بعد آپ یمن میں مبلغ تعینات ہوئے۔یمن میں 24 مئی 1934ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد مکرم عبداللہ محد عثمان الشبوطی صاحب پہلے یمنی احمدی تھے جنہوں نے مبلغ سلسلہ مکرم غلام احمد صاحب کے ذریعہ بیعت کی تھی۔مرحوم کے والد صاحب نے آپ کو جون 1952ء میں جامعہ احمدیہ ربوہ میں پڑھنے کے لئے بھجوایا تھا جہاں مرحوم نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے والے آپ پہلے غیر ملکی تھے۔اسی طرح آپ نے جامعہ سے شاہد کا امتحان بھی پاس کیا اور 1960ء میں مبلغ بن کے یمن واپس آئے۔لیکن آپ کی واپسی سے قبل آپ کے والد صاحب نے ہدایت کی کہ ربوہ میں شادی کر کے آئیں اور پھر تحریک جدید نے ان کا رشتہ مکرم سید بشیر احمد شاہ صاحب کی