خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 695
خطبات مسرور جلد 12 695 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء کا ایک اقتباس میں پڑھ دیتا ہوں جس میں آپ نے ابتلاؤں میں حکمت کیا ہے، اس کے بارے میں فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کا ایذا نہ پہنچنے دیتا اور ہر طرح سے عیش و آرام میں ان کی زندگی بسر کرواتا۔ان کی زندگی شاہانہ زندگی ہوتی۔ہر وقت ان کے لیے عیش و طرب کے سامان مہیا کئے جاتے۔مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔اس میں بڑے اسرار اور راز نہاں ہوتے ہیں۔دیکھو والدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہوتی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہوتی ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین اس کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں۔وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کام ہوتا ہے۔دونوں طرف کی حالت ہی بڑی قابل رحم ہوتی ہے ( یعنی ماں باپ بھی رخصت کے وقت رور ہے ہوتے ہیں اور لڑ کی بھی قریباً چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہوتے ہیں۔آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقت کا وقت ہوتا ہے۔اس جدائی کو بھی کوئی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجا ہے مگر اس کی لڑکی میں بعض ایسے قوی ہوتے ہیں جس کا اظہار اس علیحدگی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجب برکت اور رحمت ہوتا ہے۔یہی حال اہل اللہ کا ہے۔ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدائد نہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہوتا ہے۔دیکھو اب ہم لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بیان کرتے ہیں بڑے فخر اور جرأت سے کام لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دونوں زمانے آ چکے ہوئے ہیں ور نہ ہم یہ فضیلت کس طرح بیان کرتے“۔( یعنی آسائش کا بھی زمانہ آیا اور سختیوں اور تکلیفوں کا بھی) دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو۔یہ خدا (تعالی) سے لذت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اسی لذت کو حاصل کرنے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی گل لذات کو طلاق دینی پڑا کرتی ہے۔خدا کا مقرب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے۔جب انسان دنیوی ہوا و ہوس اور نفس کی طرف سے بکلی موت اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔پھر اس کے بعد مرنا کبھی نہیں ہوتا۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 2000-2011 ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس یہ ہے ابتلا کی حکمت کا مختصر خاکہ۔حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ فرما یا کہ ” میری عمر جب نو