خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد 12 64 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء پس بیشک وفات مسیح، ختم نبوت یا جو دوسرے مسائل ہیں جن کا اعتقاد سے تعلق ہے اُن کا علم ہونا تو بہت ضروری ہے اور ان پر دلیل کے ساتھ قائم رہنا بھی ضروری ہے، بغیر دلیل کے نہیں لیکن عملی اصلاح کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہو گا اور اس کے لئے وہ ذرائع اپنانے ہوں گے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھائے۔ہمیں اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنا ہوگا۔جو ہم دوسروں کو کہیں اُس کے بارے میں اپنے بھی جائزے لیں کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں جماعت احمدیہ کے جو جامعات ہیں جہاں مبلغین اور مربیان تیار ہوتے ہیں،ان میں نو جوان مربی اور مبلغ بننے کے لئے بہت سارے بچے داخل ہو رہے ہیں اور خاص طور پر پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے جامعہ میں آتے ہیں۔ان میں بہت کثرت سے واقفینِ نو بھی ہیں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعداد کی کثرت معیار میں کمی کر دیتی ہے۔اور بعض دفعہ یہ مثالیں بھی سامنے آتی ہیں کہ روحانی معیار کے حصول میں کوشش نہ کرنے ، بلکہ بعض غلط عادتوں کی وجہ سے اور صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے کہ مربی اور مبلغ کا کیا تقدس ہونا چاہئے جب ایسے لڑ کے بعض حرکتیں کرتے ہیں تو پھر اُن کو جامعات سے فارغ بھی کیا جاتا ہے۔پس وہ زمانہ جو انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ احمدیت کی ترقی کا آنے والا ہے، اس کی تیاری کے لئے مربیان بنے والے مبلغین بننے والے اپنے آپ کو بہت زیادہ تیار کریں۔کوئی معمولی کام نہیں جو ان کے سپر د ہونے والا ہے۔ابھی سے خدا تعالیٰ سے ایک تعلق پیدا کریں اور اس کے لئے پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نشانات ہمیں دکھائے ، اسلام کی جو حقیقی تعلیم دوبارہ کھول کر واضح فرمائی ، اُسے سامنے رکھیں۔صرف مسائل کو یاد کرنے تک ہی اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں۔مجھے قادیان سے کسی عالم نے لکھا کہ آجکل کھلے جلسے جو مخالفین کے جواب دینے کے لئے پہلے ہندوستان میں منعقد ہوتے تھے، اب نہیں ہوتے ، ہم اُن جلسوں میں ایسے تابڑ توڑ حملے مخالف علماء پر کرتے تھے کہ ایک کے بعد دوسرے حملے نے اُنہیں زِچ کر دیا تھا۔ٹھیک ہے یہ اچھی بات ہے کہ کرتے تھے۔مخالفین کے جواب دینے چاہئیں، بلکہ دلائل کے ساتھ اُن کی باتوں کے رڈ اُن پر ہی پھینکنے چاہئیں لیکن یہ بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور ضروری ہے کہ ہمارے معلمین اور مبلغین اور مربیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنی روحانی حالت میں بھی وہ ترقی کرتے کہ ہر ایک کا وجود خود ایک نشان بن جاتا۔اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے بلکہ وہ ترقی کریں کہ خود ایک نشان بن جائے۔اور اسی نمونے کو