خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد 12 63 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء ہوں۔یہ جواب سن کر مجھ پر سخت دہشت طاری ہو گئی۔اور میں نے کہا کہ تم خدا ہو؟ آج تک تو تمام انبیاء دنیا میں یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ سب سے زیادہ خوبصورت ہے اور اُس سے بڑھ کر اور کوئی حسین نہیں۔ہم جو اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کرتے ہیں تو کیا اسی شکل پر ؟ اُس نے کہا انبیاء جو کہتے آئے وہ ٹھیک اور درست کہتے ہیں۔میں اصل خدا نہیں ہوں۔میں بھوپال کے لوگوں کا خدا ہوں۔یعنی بھوپال کے لوگوں کی نظروں میں میں ایسا ہی سمجھا جاتا ہوں۔یعنی ان لوگوں کی نظر میں خدا تعالیٰ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 455-456 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولا ئی 1936ء) پس خدا تعالیٰ تو نہیں مرتا مگر جب کوئی انسان اُسے بھلا دیتا ہے تو اُس کے لحاظ سے وہ مرجاتا ہے۔یہاں نو جوانوں کو یہ بھی سمجھا دوں کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بس لوگ ایسے ہو گئے تو خدا نے یہ شکل اختیار کر لی اور معاملہ ختم۔اصل میں تو یہ شکل اُن لوگوں کی اپنی ہے جنہوں نے خدا کو چھوڑا۔جس طرح آئینہ میں اپنی تصویر نظر آتی ہے۔اصل چیز یہی ہے اپنی شکل نظر آ رہی ہوتی ہے۔یہ شکل جو اُس نے خواب میں دیکھی ، وہ اُن لوگوں کا آئینہ تھا۔وہ روحانی لحاظ سے کوڑھی ہو گئے اور ایسے لوگ پھر اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔نعوذ باللہ خدا نے مرکر اُن سے کنارہ کشی نہیں کر لی۔اللہ تعالیٰ کو ایسا سمجھنے والوں کو خدا تعالیٰ بعض دفعہ اس دنیا میں بھی سزا دیتا ہے۔خدا تعالیٰ ایک طرف ہو کے بیٹھ نہیں جاتا بلکہ اس دنیا میں بھی ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے۔بلکہ متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا انجام یہی بتایا ہے کہ وہ جہنم میں جانے والے ہیں جو خدا کو بھول جائیں۔پس اس مثال سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خدا کو چھوڑ دیا یا بے طاقت تصور کر لیا تو بات ختم ہو گئی ، کچھ نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ بدلہ لینے والا بھی ہے، سزا دینے والا بھی ہے اور اُس کا غضب جب بھڑکتا ہے تو پھر کوئی بھی اُس کے غضب کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔پس اس لحاظ سے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ خدا کو بھول گئے اور قصہ ختم ہو گیا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ: عجیب بات ہے کہ ہمارے علماء حضرت عیسی کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ روح پیدا نہیں کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا فہم اور ادراک پیدا ہو۔ہماری اصل کوشش خدا تعالیٰ کو زندہ کرنے کی اور اُس سے زیادہ تعلق پیدا کرنے کی ہونی چاہئے۔اگر خدا سے ہمارا زندہ تعلق ہے تو چاہے عیسی کو زندہ سمجھنے والے جتنا بھی شور مچاتے رہیں ، ہمارے ایمانوں میں کبھی بگاڑ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ خدا ہر قدم پر ہمیں سنبھالنے والا ہوگا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 456 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولا ئی 1936ء)